اسلام آباد (نیوز ڈیسک) برازیل سے تعلق رکھنے والی دفاعی امور کی ماہر نے ایران کے میزائل ذخیرے سے متعلق مغربی خفیہ اداروں کے اندازوں کو مسترد کرتے ہوئے
مختلف اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔فوجی تجزیہ کار پیٹریشیا مارنز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 17 ہزار سے زیادہ بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران ان کے تخمینے کے مطابق ایران کے پاس فعال اور ذخیرہ شدہ میزائلوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 ہزار تھی، جن میں 7 سے 8 ہزار بیلسٹک جبکہ 12 سے 13 ہزار کروز میزائل شامل تھے۔پیٹریشیا مارنز کے مطابق ایران نے 1990 کی دہائی کے آغاز میں شہاب-2 میزائل کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کی جو تقریباً ڈیڑھ دہائی تک جاری رہی، جبکہ 2004 سے 2008 کے دوران شہاب-3 تیار کیا جاتا رہا۔ ابتدائی ماڈلز کی درستگی میں اگرچہ کچھ کمی تھی، تاہم 2015 میں ایران نے ایک بڑے پروگرام کے تحت ان میزائلوں کے گائیڈنس سسٹمز اور وارہیڈز کو جدید بنایا، جبکہ پرانے میزائل اب بھی ذخیرے میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہر ماڈل کی سالانہ پیداوار کا محتاط اندازہ بھی 100 یونٹس لگایا جائے تو گزشتہ 15 سال میں ایران کا میزائل ذخیرہ باآسانی 17 ہزار سے تجاوز کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق 2010 تک ایران تقریباً 12 مختلف میزائل ماڈلز تیار کر رہا تھا، جبکہ 2015 کے بعد 8 سے 12 ایسے جدید ماڈلز شامل کیے گئے جن کی رینج 1000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ سومار اور مشکوٰۃ جیسے کروز میزائل اور عماد و سجیل جیسے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل اب 2000 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پیٹریشیا مارنز نے مغربی تھنک ٹینکس کے اس دعوے کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا کہ فروری تک ایران کے پاس صرف 2500 میزائل تھے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ روس، یوکرین جنگ کے دوران بھی سالانہ تقریباً 2500 جدید میزائل تیار کر رہا ہے، اس لیے یہ بات قرینِ قیاس نہیں کہ ایران تین دہائیوں سے جاری پیداوار کے باوجود اتنی کم تعداد رکھتا ہو۔ان کے مطابق ایران نے میزائل پروگرام کے لیے 300 سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ایک منظم دفاعی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جسے مزید ہزاروں ٹیکنالوجی پر مبنی اداروں کی معاونت حاصل ہے۔



















































