واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے مذاکرات کے اچانک فیصلے سے چند منٹ پہلے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہونے والی
مشتبہ بڑی سرمایہ کاری نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے، ایک نامعلوم سرمایہ کار نے محض 20 منٹ میں تقریباً 840 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نیویارک کے وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 50 منٹ پر ایس اینڈ پی 500 ایـمنی فیوچرز میں غیر معمولی خریداری دیکھی گئی جبکہ تیل کی عالمی منڈی میں بھی اسی وقت بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہو گئی۔ اس وقت تک مارکیٹ میں کوئی اہم خبر یا سرکاری اعلان سے متعلق کوئی معلومات نہیں پہنچی تھی۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 15 منٹ بعد صبح 7 بج کر 5 منٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ایرانی توانائی تنصیبات پر مجوزہ حملے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔امریکی صدر کے اس اعلان کے فوراً بعد مارکیٹ میں شدید ردعمل دیکھا گیا، ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 2.5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، برینٹ خام تیل کی قیمت 109 ڈالر سے گر کر 92 ڈالر تک آ گئی اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل تقریباً 6 فیصد سستا ہوا۔ٹریڈنگ پلیٹ فارم ان یوزول ویلز کے مطابق نامعلوم سرمایہ کار نے دو بڑی شرطیں لگائیں، تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے ایس اینڈ پی 500 فیوچرز خریدے، اس امید پر کہ کشیدگی کم ہونے سے اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی اور تقریباً 192 ملین ڈالر کے تیل فیوچرز فروخت کیے کیونکہ امن کی صورت میں تیل کی قیمت گرنے کا امکان تھا۔صرف ایک منٹ میں تقریباً 6,200 تیل فیوچرز کنٹریکٹس کی خرید و فروخت ہوئی جو اس وقت کی معمول کی تجارت سے 4 سے 6 گنا زیادہ تھی۔بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے متعلق ہیج فنڈ منیجر میٹ ولیمز نے کہا ہے کہ 25 سال کے تجربے میں اس نوعیت کی ٹریڈنگ انتہائی غیر معمولی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کوئی معاشی اعلان یا فیڈرل ریزرو کی سرگرمی متوقع نہ ہو۔
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ ماہرین نے بتایا کہ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ کسی کو پیشگی معلومات تھیں یا نہیں تاہم سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ اعلان سے چند منٹ پہلے اتنی بڑی سرمایہ کاری کس بنیاد پر کی گئی۔رپورٹس کے مطابق ابھی تک امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کسی بھی غیر قانونی اندرونی معلومات کے استعمال کو برداشت نہیں کرتی ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو متاثر کرنے کیلئے جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکی پالیسی اعلانات سے پہلے بڑی مالیاتی ٹریڈنگ کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس کے بعد عالمی منڈیوں میں شفافیت اور اندرونی معلومات کے ممکنہ استعمال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔



















































