اسلام آباد (این این آئی) پاکستان کی ترکیہ اور مصر کیساتھ مل کر موثر سفارتکاری کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی آگئی ،
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ فوجی حملوں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کردیا۔سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ 48گھنٹوں کے دوران پاکستان نے پس پردہ رابطوں میں مرکزی کردار ادا کیا اور انقرہ اور قاہرہ کیساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے ممکن بنائے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت پورے عمل کے دوران متحرک رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلی سطحی سفارتی رابطے جاری رکھے، جبکہ آرمی چیف عاصم منیر نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اسٹریٹجک ملاقاتیں کیں۔ حکام کے مطابق توجہ صرف فوری کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں تھی بلکہ دیرپا علاقائی استحکام کی بنیاد رکھنے پر بھی مرکوز رہی۔سفارتی مبصرین کے مطابق پاکستان نے متوازن حکمت عملی اپنائی، اور امریکہ و ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر غالیباف کریں گے جبکہ امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آنے کا امکان ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران مذاکرات پاکستان ترکیے اور مصر کی سہولت کاری میں ہوئے ہیں۔
امریکی ویب میگزین ایکزیوس کے رپورٹر بارک روید نے سوشل میڈیا سائٹ پر لکھا ہے کہ مشرق وسطی میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان، ترکیے اور مصر کے حکام کوششیں کر رہے ہیں، یہ تینوں ممالک امریکا اور ایران کے حکام سے رابطے کر کے ان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مصالحت کروانے والے ملک چاہتے ہیں کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کی ایرانی اسپیکر باقر غالیباف کی قیادت میں ایک ایرانی وفد سے ملاقات کروائی جائے۔ بارک روید نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیلی حکام اس بات سے تو باخبر ہیں کہ کئی ممالک ایران اور امریکا میں بات چیت کیلئے کوشاں ہیں، لیکن وہ ٹرمپ کے ان الفاظ پر حیران ہیں کہ ان رابطوں میں پیشرفت ہو رہی ہے اور 15نکات پر بظاہر اتفاق بھی ہوچکا ہے۔





























