ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

این ڈی ایم اے نے ملک میں بارشوں اور برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری کر

datetime 14  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 16 مارچ تک شمالی پاکستان میں بارش اور برف باری متوقع ہے، جس سے برفانی تودوں کے پھسلنے ، لینڈ سلائیڈنگ اور سفری رکاوٹوں کے خدشات میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو تیار رہنے اور چوکس نگرانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ برف باری اور بارش کے نئے سلسلہ کے دوران برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16 مارچ تک گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں موسمی نظام کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ پیشگوئی کے مطابق گلگت، استور، دیامر، اسکردو، ہنزہ، غذر اور شگر سمیت گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں مظفرآباد، باغ، پونچھ، حویلی، کوٹلی، بھمبر اور وادی نیلم کے لیے بھی ایسی ہی صورتحال کی پیش گوئی کی گئی ہے۔خیبرپختونخوا کے کچھ حصوں بالخصوص چترال، دیر، سوات، کالام اور بٹگرام میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔ زیادہ اونچائی پر برف باری سڑکوں پر پھسلن اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے جبکہ جاری بارش اور برف باری سے پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ موسم سفر میں خلل ڈال سکتا ہے اور کچھ علاقوں میں بجلی کی عارضی بندش کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بارش کے علاوہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت بعض علاقوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے متنبہ کیا کہ چترال، سوات، کوہستان، گلگت، استور اور اسکردو جیسے اضلاع میں تیزی سے گلیشیئر پگھلنے سے اچانک سیلاب آنے کے خدشات بھی ہیں۔ بارش اور برف باری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم سمیت اہم پہاڑی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ دریں اثنا، دیامر، داریل، تانگیر، استور اور ہنزہ جیسے علاقوں میں خاص طور پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سڑکوں کو بلاک کر سکتے ہیں اور ان علاقوں میں سفر اور نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…