اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ملک میں پیٹرول کی دستیابی سے متعلق خدشات سامنے آ رہے تھے،
تاہم آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس حوالے سے وضاحت جاری کر دی ہے۔اوگرا کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی قسم کی قلت کا فوری خطرہ نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کے پاس کم از کم 28 دن کے لیے ایندھن کا اسٹاک دستیاب ہے، جو قومی ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔ حکام نے عوام کو اطمینان دلایا کہ سپلائی کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے۔دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک حملے کے نتیجے میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول کو نقصان پہنچنے اور متعدد طالبات کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ابوظبی میں ایرانی بیلسٹک میزائل کے ملبے سے ایک ایشیائی شہری جان کی بازی ہار گیا۔شمالی اسرائیل میں بھی ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ ایک نو منزلہ عمارت پر گرنے سے کم از کم ایک شخص زخمی ہوا اور ایک اپارٹمنٹ کو شدید نقصان پہنچا۔تاحال دونوں ممالک کے درمیان جاری جھڑپوں میں مزید ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم عالمی میڈیا کی توجہ اس وقت ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں اور اس کے بعد کی صورتحال پر مرکوز ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین شامل ہیں۔



















































