منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

رمضان کی آمد سے قبل مہنگائی کا حملہ، ملک میں کوکنگ آئل کی قیمت میں اضافہ

datetime 12  فروری‬‮  2026 |

مکو آ نہ (این این آئی)پاکستان بھر میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران کوکنگ آئل کی قیمت میں فی لیٹر 60 روپے تک اضافہ ہوچکا ہے جس کے بعد خوردہ قیمت 550 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، اس ضمن میں دکانداروں کا مؤقف ہے کہ کوکنگ آئل پہلے 490 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا، تاہم سپلائی میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا۔بتایا گیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے صارفین کے مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جو پہلے ہی ضروری اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں، اسی دوران آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں 5 کلوگرام آٹے کا تھیلا 900 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جو مارکیٹ میں دستیاب دیگر برانڈز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے جب کہ مختلف علاقوں میں 10 کلو آٹے کی قیمت 1400 روپے تک پہنچ جانا عوام کے لئے ناقابل برداشت ہو چکا ہیبتایا جارہا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کا یہ طوفان غریب اور متوسط طبقے کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کے مترادف ہے، عوام پہلے ہی بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید مالی دبا کا شکار ہیں اور اب بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافہ حکومتی رٹ اور مارکیٹ مانیٹرنگ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کوکنگ آئل اور گھی کی سپلائی چین کی ہنگامی بنیادوں پر جانچ پڑتال کی جائے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، آٹے کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے فلور ملز اور چکیوں کی کڑی نگرانی کی جائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے، رمضان المبارک کیلئے خصوصی سبسڈی اور سستے بازاروں کا فوری قیام عمل میں لایا جائے، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کر کے روزانہ بنیادوں پر نرخوں کی چیکنگ کو یقینی بنایا جائے حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…