بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

طالبان کا تعلیمی نظام داعش اور القاعدہ کا سہولت کار ہے، امریکی جریدے کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 17  دسمبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں افغان طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی کو القاعدہ اور داعش سے مماثل قرار دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کا تعلیمی اور مدرسہ نظام ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے نوجوان نسل کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ نے اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد علاقائی اور عالمی شدت پسند تنظیموں سے روابط موجود ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ افغانستان میں ایک ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جو عالمی جہاد کو دینی فریضہ سمجھتی ہے، جو مستقبل میں خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2021 کے بعد مدارس کے نصاب میں واضح تبدیلیاں کی گئیں اور تعلیم کو اطاعت، شدت پسندی اور نظریاتی وفاداری کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول اسی صورت کھولے جائیں گے جب نصاب ان کے نظریاتی معیار پر پورا اترے گا۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کی تشریحِ اسلام نہ افغان اور نہ ہی پشتون روایات کا تسلسل ہے بلکہ یہ ایک درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے۔لیک شدہ دستاویزات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ ایک طویل المدتی عالمی جہادی مشن کا تصور رکھتے ہیں، جس میں مکمل کنٹرول، مدارس کے ذریعے نظریاتی تربیت اور اس نظریے کو افغانستان سے باہر پھیلانا شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چار کروڑ آبادی والے افغانستان میں 23 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں، جہاں تعلیم کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت، جو حقانی نیٹ ورک سے منسلک ایک رہنما کے گھر میں ہوئی، طالبان اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے گہرے تعلقات کو بے نقاب کرتی ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ نے خبردار کیا کہ طالبان کے نظریاتی تعلیمی ماڈل سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے اور عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…