بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کا تعلیمی نظام داعش اور القاعدہ کا سہولت کار ہے، امریکی جریدے کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 17  دسمبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں افغان طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی کو القاعدہ اور داعش سے مماثل قرار دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کا تعلیمی اور مدرسہ نظام ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے نوجوان نسل کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ نے اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد علاقائی اور عالمی شدت پسند تنظیموں سے روابط موجود ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ افغانستان میں ایک ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جو عالمی جہاد کو دینی فریضہ سمجھتی ہے، جو مستقبل میں خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2021 کے بعد مدارس کے نصاب میں واضح تبدیلیاں کی گئیں اور تعلیم کو اطاعت، شدت پسندی اور نظریاتی وفاداری کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول اسی صورت کھولے جائیں گے جب نصاب ان کے نظریاتی معیار پر پورا اترے گا۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کی تشریحِ اسلام نہ افغان اور نہ ہی پشتون روایات کا تسلسل ہے بلکہ یہ ایک درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے۔لیک شدہ دستاویزات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ ایک طویل المدتی عالمی جہادی مشن کا تصور رکھتے ہیں، جس میں مکمل کنٹرول، مدارس کے ذریعے نظریاتی تربیت اور اس نظریے کو افغانستان سے باہر پھیلانا شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چار کروڑ آبادی والے افغانستان میں 23 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں، جہاں تعلیم کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت، جو حقانی نیٹ ورک سے منسلک ایک رہنما کے گھر میں ہوئی، طالبان اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے گہرے تعلقات کو بے نقاب کرتی ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ نے خبردار کیا کہ طالبان کے نظریاتی تعلیمی ماڈل سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے اور عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…