جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

طالبان کا تعلیمی نظام داعش اور القاعدہ کا سہولت کار ہے، امریکی جریدے کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 17  دسمبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں افغان طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی کو القاعدہ اور داعش سے مماثل قرار دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کا تعلیمی اور مدرسہ نظام ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے نوجوان نسل کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ نے اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد علاقائی اور عالمی شدت پسند تنظیموں سے روابط موجود ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ افغانستان میں ایک ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جو عالمی جہاد کو دینی فریضہ سمجھتی ہے، جو مستقبل میں خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2021 کے بعد مدارس کے نصاب میں واضح تبدیلیاں کی گئیں اور تعلیم کو اطاعت، شدت پسندی اور نظریاتی وفاداری کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول اسی صورت کھولے جائیں گے جب نصاب ان کے نظریاتی معیار پر پورا اترے گا۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کی تشریحِ اسلام نہ افغان اور نہ ہی پشتون روایات کا تسلسل ہے بلکہ یہ ایک درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے۔لیک شدہ دستاویزات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ ایک طویل المدتی عالمی جہادی مشن کا تصور رکھتے ہیں، جس میں مکمل کنٹرول، مدارس کے ذریعے نظریاتی تربیت اور اس نظریے کو افغانستان سے باہر پھیلانا شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چار کروڑ آبادی والے افغانستان میں 23 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں، جہاں تعلیم کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت، جو حقانی نیٹ ورک سے منسلک ایک رہنما کے گھر میں ہوئی، طالبان اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے گہرے تعلقات کو بے نقاب کرتی ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ نے خبردار کیا کہ طالبان کے نظریاتی تعلیمی ماڈل سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے اور عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…