بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

لاہورہائیکورٹ: شازیہ کے بجائےعامرکو پارسل دینے پرکوریئرکمپنی کو شہری کو ہرجانہ ادا کرنےکا حکم

datetime 9  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) لاہور ہائی کورٹ نے کوریئر کمپنی کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے صارف عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے تحت ایک شہری کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔جسٹس انوار حسین کی جانب سے جاری کردہ چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کمپنی شہری صدیق گھمن کو ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی پابند ہے۔ یہ رقم 2022 میں صارف عدالت کی جانب سے مقرر کی گئی تھی۔مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق، شہری نے سیلف کلیکشن سروس کے ذریعے موبائل فون بک کروایا تھا اور واضح طور پر بتایا تھا کہ پارسل صرف شازیہ سعید کو ہی دیا جائے۔

تاہم کوریئر کمپنی نے مذکورہ پارسل غلطی سے محمد عامر کے حوالے کر دیا، جس کے بعد متاثرہ شہری نے قانونی کارروائی کی۔کیس کی سماعت کے دوران محمد عامر نے انکشاف کیا کہ وہ خود کو فیس بک پر شازیہ سعید ظاہر کرتا رہا اور اسی دھوکے کے تحت پارسل وصول کیا۔ اس نے موبائل واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کی، مگر صارف عدالت نے کمپنی کو اپنی غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم سنا دیا۔کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فون ان کے پاس موجود ہے اور وہ واپس دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن شہری کا کہنا تھا کہ کمپنی کو صرف اصل وصول کنندہ کی شناخت کی تصدیق کے بعد ہی پارسل دینا چاہیے تھا، کسی مشکوک شخص کو نہیں۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مناسب تصدیق کے بغیر پارسل کسی اور کو دینا سنگین لاپروائی ہے۔ کمپنی نے اپنی غلطی تسلیم بھی کی، مگر موبائل واپس کرنے سے معاہدے کی خلاف ورزی ختم نہیں ہو جاتی۔ شہری کو ذہنی اذیت، تاخیر اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لہٰذا ہرجانے کا فیصلہ درست ہے۔عدالت نے آخر میں کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…