اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر پرووائیڈرز لائسنس ہولڈرز کی ناقص کارکردگی پر سخت نگرانی کا فیصلہ کرلیا۔ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر پرووائیڈرلائسنس ہولڈرزکی ناقص کارکردگی کا نوٹس لے لیا،زیادہ تر لائسنس ہولڈرز بنیادی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے،ٹی آئی پی لائسنس ہولڈرز کیلئے سخت رول آؤٹ تقاضے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا،ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر میں اضافے کیلئے لائسنس میں سخت شرائط شامل ہیں۔پی ٹی اے نے غیرفعال لائسنس ہولڈرزکی بڑی تعداد پرتشویش کا اظہارکیا ہے،کمزوررول آؤٹ اور غیر فعال لائسنسز پر شدید تشویش کا اظہارکیا،اب سخت شرائط اورسالانہ اہداف لازمی پورے کرنے ہوں گے۔
دستاویز کے مطابق لائسنس ہولڈرزکیلئیسالانہ 60 کلومیٹر فائبربچھانا لازم ہوگا،ٹی آئی پی آپریٹرز کو ہرسال 10 ٹاورز یا ریڈیو لنکس لگانا ہوں گے،سب میرین کیبل لینڈنگ اسٹیشنز کے قیام کی ٹائم لائن پر عملدرآمد ضروری ہوگا۔پی ٹی اے دستاویز کے مطابق زیادہ تر ٹی آئی پی لائسنس ہولڈرز نے لائسنس کے تقاضے پورے نہیں کیے ، 24 میں سے صرف 14 ٹی آئی پی لائسنس ہولڈرز نے فائبر نیٹ ورک بچھایا،6کمپنیوں نے 300 کلومیٹر یا اس سے زائد فائبر بچھایا،لازمی رول آؤٹ سے غیر فعال لائسنسز کا خاتمہ ہوگا،دستاویز کے مطابق کمزور رول آؤٹ قومی براڈبینڈ اہداف کے حصول کو متاثر کر رہا ہے،مجوزہ اصلاحات سے ٹیلی کام انفرااسٹرکچرمیں نمایاں بہتری آئے گی،نئی پالیسی سیسرمایہ کاری بڑھے گی اورفائبرائزیشن کے اہداف تیز ہوں گے،پی ٹی اے نے اسٹیک ہولڈرز سے ان کی رائے اور متبادل تجاویز بھی طلب کرلیں۔















































