بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان سے چند سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اُن کی بے شمار خدمات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اقرار الحسن

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اینکر پرسن اقرار الحسن نے کہا ہے کہ عمران خان ملک کے سابق وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ 2024 کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے رہنما ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ کچھ سیاسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں، مگر عمران خان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان پر قائم مقدمات کے پیمانے سے لے کر جیل میں ان کے ساتھ ہونے والا رویہ تک، سب قابلِ افسوس ہے۔ ایک شہری اور قیدی کی حیثیت سے انہیں جن حقوق کا حق ہے، وہ بھی نہیں دیے جا رہے۔اقرار الحسن نے مزید کہا کہ موجودہ پی ٹی آئی نہ تو اب تک عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کر سکی ہے اور نہ آگے کرسکے گی، کیونکہ یہ جماعت دراصل ایک شخصیت کے گرد جمع ہونے والا ہجوم تھی، جو اس شخصیت کے منظر سے ہٹتے ہی منتشر ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی انتقام کے سات دہائیوں پر مشتمل سلسلے کو روکنے کے لیے ایک ایسی نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو افراد کے بجائے کسی نظریے کے گرد متحد ہو۔ ایسی منظم اور جمہوری جماعت ہی فیصلے ذاتی مفادات کے بجائے قومی اور جماعتی مفاد کو سامنے رکھ کر کر سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نوجوان ایک مضبوط جمہوری پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو وہ اصولی بنیادوں پر عمران خان کی رہائی سمیت سیاسی انتقام کے خاتمے کے لیے عملی جدوجہد کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے والی موجودہ پی ٹی آئی یہ کام نہیں کر پائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…