اسلام آباد (نیوزڈ یسک)حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا جبکہ مجوزہ ترامیم کا تفصیلی مسودہ بھی سامنے آگیا ہے۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’’آج ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کر کے آئینی بل پیش کر لیتے ہیں‘‘۔چیئرمین سینیٹ نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے معمول کی کارروائی معطل کر دی۔ بعد ازاں طارق فضل چوہدری نے سوالات و جوابات کا وقفہ معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔ایوان میں بل پیش کیے جانے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کردیا تاکہ مزید غور و خوض کے بعد رپورٹ تیار کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، مجوزہ ترمیم میں آئینِ پاکستان کے 48 آرٹیکلز میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔اہم تبدیلیوں میں آرٹیکل 243 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ بنانے کی سفارش شامل ہے۔اسی طرح ایک تجویز کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات برقرار رہے گا۔ترمیمی مسودے میں ججز کے تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز تبادلے کے عمل میں شریک ہوں گے۔علاوہ ازیں، ترمیم میں بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے، صوبائی کابینہ کے حجم میں توسیع اور مشیران کی تعداد بڑھانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔بل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ سینیٹ کے تمام انتخابات ایک ہی وقت میں منعقد کیے جائیں۔ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل کے عہدے کو تاحیات برقرار رکھنے کی شق بھی مجوزہ ترمیمی بل میں شامل ہے۔















































