اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شریک حیات سے زندگی پر مرتب ہونے والے اہم اثر کا انکشاف

datetime 17  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)   اگر آپ واقعی زندگی میں خوشی اور سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے شریکِ حیات کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ یہ نتیجہ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے “سوشل انڈیکیٹرز ریسرچ” میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ کسی بھی شخص کی زندگی سے مطمئن ہونے کی سطح اس کے شریکِ حیات کی خوشی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ازدواجی زندگی میں موجود احساس، توجہ، صحت اور سماجی روابط جیسے عناصر اس تعلق کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ طویل عرصے سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خوش باش زندگی کن عوامل سے مشروط ہے، خاص طور پر بڑھتی عمر کے ساتھ۔اگرچہ ذاتی صحت، مالی حالات اور معاشرتی مقام کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے، مگر ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں توجہ اس بات پر دی گئی کہ میانِ شوہر و بیوی اطمینانِ زندگی کس حد تک باہمی طور پر جڑا ہوا ہے۔تحقیق میں 28 ممالک کے تقریباً 25 ہزار جوڑوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کی عمریں 50 سال یا اس سے زائد تھیں۔ ان افراد سے زندگی کی خوشی، اطمینان اور تعلقات کے معیار سے متعلق سوالنامے بھروائے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر اپنی زندگی سے مطمئن تھا تو اس کا اثر براہِ راست بیوی کے اطمینان پر بھی پڑا — اور یہی صورت اس کے برعکس بھی دیکھی گئی۔محققین کے مطابق یہ امر پہلے سے ثابت ہے کہ ایک مضبوط رشتہ فرد کی خوشی اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتا ہے، کیونکہ انسان اپنے قریبی تعلقات میں موجود افراد کے تجربات، مشکلات اور احساسات سے متاثر ہوتا ہے۔مطالعے میں مزید کہا گیا کہ زندگی سے اطمینان کو صرف انفرادی احساس نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ جوڑوں میں مشترکہ تجربہ ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک شریکِ حیات کی زندگی کے معیار میں بہتری لائی جائے تو اس کا مثبت اثر دوسرے پر بھی ضرور پڑتا ہے۔البتہ ماہرین نے واضح کیا کہ تحقیق کی کچھ حدود ہیں، کیونکہ اس میں سبب اور نتیجے کے درمیان تعلق کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا اور نوجوان جوڑوں کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پہلو پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ انسانی خوشی کے باہمی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…