جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

غزہ کیلئے امداد لےجانے والی کشتیوں پر اسرائیل کے حملے، کئی افراد زیرحراست

datetime 2  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد ۰نیوز ڈیسک)اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر کارروائی کرتے ہوئے اس کا گھیراؤ کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق 20 اسرائیلی کشتیاں 40 سے زائد جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کے اردگرد تعینات ہو گئیں اور متعدد کشتیوں پر پانی کے توپ خانے استعمال کیے گئے۔یہ بیڑہ غزہ کے محصور اور بھوک کا شکار عوام کے لیے امدادی سامان لے جا رہا تھا۔ اس فلوٹیلا میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت مختلف ملکوں کے کارکنان شریک ہیں۔ منتظمین نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج ایک جہاز میں گھس آئی اور اس پر سوار تمام رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق مسافروں کو ایک اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انہیں جلد ہی ملک بدر کر دیا جائے گا۔ گرفتار ہونے والوں میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے ویڈیو جاری کر کے دعویٰ کیا ہے کہ تمام افراد محفوظ ہیں۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کشتی ’دیر یاسین‘ سمیت دیگر جہازوں پر دھاوا بول کر ان کا مواصلاتی نظام بند کر دیا ہے، جس کے بعد براہِ راست نشریات اور رابطے ختم ہو گئے ہیں۔ کشتیوں میں سوار افراد کی موجودہ صورتحال غیر واضح ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی مزاحمت کے باوجود فلوٹیلا کی 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی سمت بڑھ رہی ہیں اور وہ غزہ سے صرف 46 ناٹیکل میل (تقریباً 85 کلومیٹر) کی دوری پر ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف غزہ کے عوام تک امدادی سامان پہنچانا ہے اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلوٹیلا کو ریڈیو پر وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ غزہ جانے کے بجائے اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی طرف موڑیں تاکہ وہاں امداد اتار کر غزہ منتقل کی جا سکے۔فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے اپنے جہاز سے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ: “ہم اپنے مشن کے ایک اہم موڑ پر ہیں اور اسرائیلی ناکہ بندی کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

“ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ایک جہاز پر موجود کارکن زین العابدین اوزکان نے بتایا کہ رات بھر فلوٹیلا کے اوپر اسرائیلی ڈرون پروازیں کرتے رہے، جبکہ صبح کے وقت مرکزی کشتی ’الما‘ کے انٹرنیٹ اور جی پی ایس سسٹم پر سائبر حملہ کیا گیا جس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔’الما‘ پر سوار ترک کارکن متیہان ساری کے مطابق یہ سب سے شدید دباؤ تھا جس کا انہوں نے سامنا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: “ہمیں ڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے اور واضح کر دیا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جنگی کشتیاں ’الما‘ سے صرف پانچ سے دس میٹر کے فاصلے تک آ گئی تھیں۔دریں اثنا، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلوٹیلا میں شامل کارکنوں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…