منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

’آپ کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیئے اگر کسی دن میں نے پکڑلیا ناں‘ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا ایمان مزاری سے تلخ مکالمہ

datetime 11  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آبان (نیو ز ڈ یسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماہرنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی، جب چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور وکیل ایمان مزاری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ “اگر میں اس کیس میں کوئی حکم دوں تو محترمہ مزاری نیچے جا کر یہ بیان دیں گی کہ یہاں ڈکٹیٹر بیٹھا ہے۔” اس پر ایمان مزاری نے جواب دیا کہ “میں نے ایسا کوئی جملہ نہیں کہا جو قانون سے باہر ہو۔” چیف جسٹس نے جواب دیا، “آپ کو بھی گفتگو میں احتیاط کرنی چاہیے اور ادب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔”ایمان مزاری نے مؤقف اپنایا کہ “میں بطور وکیل دلائل دے رہی ہوں، ذاتی حیثیت میں نہیں۔ اگر آپ کو مجھ سے کوئی ذاتی تحفظات ہیں تو اس کا اثر میرے مؤکل کے کیس پر نہیں ہونا چاہیے۔

” جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ “آپ نے کہا کہ میں جج نہیں بلکہ ڈکٹیٹر ہوں، کیوں نہ آپ پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟”اس پر ایمان مزاری نے کہا، “میں نے کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی بات نہیں کی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں توہین عدالت بنتی ہے تو ضرور کارروائی کریں، مجھے آئین نے اظہار رائے کا حق دیا ہے۔” اس دوران چیف جسٹس نے ان کے شوہر سے مخاطب ہو کر کہا، “ہادی صاحب، آپ اپنی اہلیہ کو سمجھائیں، کسی دن مجھے سخت قدم اٹھانا پڑا تو۔۔۔” جس پر ایمان مزاری نے کہا کہ “اگر عدالتیں وکلا کو دھمکیاں دینا شروع کریں تو پھر آپ کارروائی کر لیں۔”اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مداخلت کرتے ہوئے سماعت کو اصل کیس کی طرف موڑا اور کہا کہ “ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے درخواست گزار کو پہلے کابینہ کی ذیلی کمیٹی سے رجوع کرنا چاہیے۔” بعد ازاں عدالت نے وکلاء کو رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…