جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ کے پاس یہ پرانا نوٹ ہے تو آپ کروڑ پتی بن سکتے ہیں

datetime 29  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے قیام کے ابتدائی برسوں میں متعارف کرایا گیا 1948 کا 100 روپے کا نوٹ آج کے دور میں انتہائی قیمتی مانا جاتا ہے اور اس کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر یہ نایاب کرنسی نوٹ “اسمال پری فکس” یعنی ایک یا دو حروف والے سیریل نمبر کے ساتھ ہو اور اچھی حالت میں محفوظ رکھا گیا ہو، تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 8 سے 12 لاکھ روپے تک ہوسکتی ہے۔

1948 کے 100 روپے کے نوٹ کی اہمیت

یہ نوٹ پاکستان کے آغاز کے فوراً بعد چھاپے گئے تھے اور ان کی تعداد بھی محدود تھی۔ اُس وقت پاکستان کی کرنسی کا انتظام عارضی طور پر ریزرو بینک آف انڈیا کے تحت تھا، اور ان نوٹوں پر “Government of Pakistan” اردو اور انگریزی میں درج ہوتا تھا، جو انہیں تاریخی اعتبار سے مزید قیمتی بناتا ہے۔

کن خصوصیات سے قیمت بڑھتی ہے؟

  • ایسے نوٹ جن کے سیریل نمبر “اسمال پری فکس” جیسے A یا AB سے شروع ہوتے ہیں، سب سے زیادہ نایاب تصور کیے جاتے ہیں۔

  • اگر نوٹ “ان سرکولیٹڈ” (یعنی بغیر شکن، داغ یا پھٹنے کے) حالت میں ہو تو اس کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

  • وہ نوٹ جن پر اس وقت کے ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنرز، جیسے سی ڈی دیشمکھ یا ایچ وی آر آئینگر کے دستخط ہوں، کلیکٹرز کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

  • غلط پرنٹنگ (Misprints) یا انتہائی کم سیریل نمبر جیسے 000001 والے نوٹ عام نوٹوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔

موجودہ مارکیٹ قیمت (2025)

  • عام حالت میں نوٹ: 50 ہزار سے 1.5 لاکھ روپے تک۔

  • ان سرکولیٹڈ (UNC) نوٹ: 5 سے 8 لاکھ روپے تک۔

  • اسمال پری فکس یا اسٹار مارک والے نوٹ: 8 سے 12 لاکھ روپے تک۔

  • مس پرنٹ (Misprint) نوٹ: 15 لاکھ روپے تک۔

یہ نوٹ پاکستان کی کرنسی کی تاریخ کا ایک انمول ورثہ ہیں اور دنیا بھر کے کرنسی کلیکٹرز کے لیے انتہائی کشش رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…