ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

دنیا کے 90 فیصد ٹریفک حادثات کا ذمہ دار ترقی پذیر ممالک کو قرار دیا گیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(این این آئی)دنیا کے 90 فیصد (12 کروڑ 50 لاکھ ) ٹریفک حادثات کا ذمہ دار ترقی پذیر ممالک کو قرار دیا گیا ہے۔گلوبل اسٹیٹس رپورٹ برائے روڈ سیفٹی 2015 کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سٹرکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات میں ہونے والے ہلاک اور زخمی افراد ان ممالک کے جی ڈی پی میں 5 فیصد خسارے کا باعث بنتے ہیں۔روڈ سیفٹی پر آنے والی یہ رپورٹ اپنی سیریز کی تیسری رپورٹ ہے جو دنیا کے 180 ممالک سے حاصل کئے جانے والے ڈیٹا سے بنائی گئی ۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا اور پیسیفک کے مغربی علاقے میں ہونے والے ایک تہائی ٹریفک حادثات کا سبب موٹر سائیکل ہے۔ادھر دنیا بھر میں ٹریفک حادثات میں موت کا شکار ہونے والے سائیکل سواروں کی تعداد 4 فیصد جبکہ موت کا شکار ہونے والے پیدل مسافروں کی تعداد 22 فیصد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں فروخت کی جانے والی 80 فیصد گاڑیاں بنیادی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتی، ان ممالک میں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2010 کے بعد سے 68 ممالک میں ٹریفک حادثات میں اضافہ دیکھا گیا جن میں 84 فیصد حادثات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوئے تھے۔79 ممالک میں اس عرصے کے دوران ٹریفک حادثات میں کمی دیکھی گئی جس میں سے 56 فیصد ممالک کم اور درمیانی آمدنی والے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ قانون سازی، قانون پر عمل درآمد ¾ سٹرکوں کی تعمیر اور گاڑیوں کو محفوظ بنانا ایسے عوامل تھے جن کے باعث بیشتر ممالک میں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا میں خطے کے لحاظ سے افریقہ میں ٹریفک حادثات کی شرع سب سے زیادہ ہے جبکہ یورپ میں یہ شرع سب سے کم 9.3 فیصد ہے۔خیال رہے کہ امریکہ میں موٹر سائیکل کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں 2010 کے مقابلے میں 2013 میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2013 میں ٹریفک حادثات کی تعداد 12 کروڑ 50 لاکھ رہی جو 2007 سے مستقل ہے اس کے باوجود عالمی طور پر آبادی، موٹرائزیشن اور موت کی پیش گوئی میں اضافہ ہوا ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 80 ممالک میں شامل ہے جن کے پاس اموات رجسٹریشن کا مناسب ڈیٹا موجود نہیں ۔پاکستان کے پاس کسی قسم کی نیشنل روڈ سیفٹی پالیسی اور اموات میں کمی کا ہدف بھی متعین نہیں کیا گیا اس کے علاوہ پاکستان میں موجودہ سٹرکوں کے باقاعدہ معائنہ کا طریقہ کار بھی موجود نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…