جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چینی سائنسدانوں کا دنگ کر دینے والا کارنامہ

datetime 20  اگست‬‮  2025 |

اسلام آبا د (نیوز ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے ایک حیران کن کامیابی حاصل کی ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ماہرین نے پہلی بار چوہوں کے دماغ میں انسانی دماغی خلیات منتقل کرنے کا تجربہ کیا ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ یہ خلیات وہی ہیں جو ڈوپامائن پیدا کرتے ہیں، یعنی وہ کیمیکل جو خوشی، توانائی اور مثبت جذبات کو ابھارتا ہے۔تحقیق کے دوران ان خلیات کو ڈپریشن سے متاثرہ چوہوں کے دماغ میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس کے بعد ان میں انزائٹی اور ڈپریشن کی علامات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ خوشی کا احساس بڑھ گیا۔یہ مطالعہ معروف سائنسی جریدے ’سیل‘ میں شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس تکنیک کو مستقبل میں دماغی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈپریشن اس وقت دنیا کے عام ترین دماغی امراض میں شمار ہوتا ہے، جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ متاثر ہیں۔ جب ڈوپامائن پیدا کرنے والے خلیات درست طریقے سے کام نہیں کرتے تو انسان میں ڈپریشن، انزائٹی اور دیگر دماغی مسائل شدت اختیار کر لیتے ہیں۔سائنسدانوں نے اس مقصد کے لیے اسٹیم سیل ٹیکنالوجی استعمال کی اور انسانی خلیات تیار کرکے چوہوں کے دماغ میں لگائے۔ حیرت انگیز طور پر یہ خلیات بالکل اصل دماغی خلیوں کی طرح فعال ہوگئے اور دماغی سرکٹس کے ساتھ جُڑ کر سگنلز وصول کرنے لگے۔محققین کے مطابق یہ طریقہ علاج مستقبل میں ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض کے لیے دواؤں کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اکثر ادویات کے سنگین مضر اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں پر اس طریقہ کار کو آزمانے کے لیے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے تاکہ اس کی افادیت اور مکمل حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…