اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

تجارتی جنگ مزید شدت اختیارکرگئی، امریکا کا چین پر عائد ٹیرف 245 فیصد تک پہنچ گیا

datetime 16  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے منگل کی شب جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ چین کو اب امریکی تجارتی پالیسیوں کے تحت 245 فیصد تک کے نئے درآمدی محصولات کا سامنا ہے، جو بیجنگ کی جوابی اقتصادی کارروائیوں کے ردعمل میں نافذ کیے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے جس کے تحت قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم معدنیات کی درآمدات کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اس حکومتی اقدام کو امریکی معیشت کے تحفظ کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر مختلف نوعیت کے ٹیرف لاگو کیے گئے ہیں جن میں 125 فیصد کا جوابی محصول، 20 فیصد منشیات کے بحران سے نمٹنے کے لیے مخصوص، اور 7.5 سے 100 فیصد کے درمیان منتخب اشیاء پر محصول شامل ہے، جس کی مجموعی شرح 245 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اس اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 75 سے زائد ممالک اس وقت امریکا کے ساتھ نئے تجارتی معاہدوں کے لیے رابطے میں ہیں۔ ان ممالک پر ٹیرف عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم چین کے لیے یہ سختیاں بدستور برقرار ہیں۔

چند ماہ قبل چین نے امریکی پابندیوں کے جواب میں گیلیم، جرمانیم، اینٹمونی اور دیگر اہم دھاتوں، جو دفاعی صنعت میں استعمال ہو سکتی ہیں، کی برآمد روک دی تھی۔ حالیہ دنوں میں چین نے 6 ہیوی ریئر ارتھ میٹلز اور ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات بھی معطل کر دی ہیں۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تجارتی کشیدگی کا آغاز امریکا نے کیا تھا، اور چین نے اپنے حقوق کے تحفظ میں ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی معاشی جنگوں میں کسی کو فتح حاصل نہیں ہوتی۔ چین لڑائی سے گریز کرنا چاہتا ہے، لیکن دباؤ سے مرعوب بھی نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکا نے چینی مصنوعات پر 145 فیصد تک ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر اپنی درآمدی ڈیوٹی 125 فیصد تک بڑھا دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…