منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے پرائیویٹ ملازمین کے بھی ہوش اڑا دیئے

datetime 15  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وفاقی حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اہم پیشرفت کی ہے، جس کے تحت نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں سے براہِ راست ٹیکس کی کٹوتی کا اختیار کمپنیوں کے اکاؤنٹس افسران کو دیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے “دی پنجاب فنانس ترمیمی بل 2025” کی منظوری دے دی ہے۔میڈیا ذرائع کے مطابق، ترمیمی بل کا مقصد یہ ہے کہ نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی جانب سے ٹیکس چھپانے یا اس میں ہیرا پھیری کو روکا جا سکے۔ اب اداروں کے متعلقہ افسران تنخواہ جاری کرنے سے قبل واجب الادا ٹیکس کاٹنے کے پابند ہوں گے۔

پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایکسائز کے اجلاس کی صدارت چیئرمین آغا علی حیدر نے کی، جس میں محکمہ خزانہ، قانون، اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بل پر تفصیلی غور و فکر کے بعد اسے منظور کر لیا گیا، جسے جلد اسمبلی کے باقاعدہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ترمیمی بل کے تحت، پرائیویٹ اداروں کے ڈی ڈی اوز (ڈسبرسنگ آفیسرز) کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ ملازمین کی تنخواہ سے ٹیکس منہا کر کے باقی رقم ادا کریں۔ اگر کسی کمپنی کی طرف سے ٹیکس کی کٹوتی یا جمع نہ کرانے کی صورت پیش آئی، تو متعلقہ ایکسائز و ٹیکسیشن آفیسر اس رقم کی وصولی کا ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔کٹا ہوا ٹیکس براہِ راست قومی خزانے میں جمع کرایا جائے گا، جس سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نیٹ کو بھی وسعت ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…