جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

این اے 122:پولنگ کا وقت ختم ،گنتی کا عمل شروع،کارکنوں کے دل کی دھرکنیں تیز

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)این اے 122لاہور کے بڑے انتخابی معرکے میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ۔ پولنگ کے دوران مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان وقفے وقفے سے کشیدہ صورتحال پیدا ہوتی رہی ،کہیں کرسیاں چلیں،کہیں مکے لاتیں، کہیں بات صرف نعروں تک محدود رہی۔ این اے122 میں ووٹرز کے ساتھ سپورٹرز بھی بڑی تعداد میں نکلے، بستی سیدن شاہ، سمن آباد اور گڑھی شاہو میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کارکنان میں کشیدگی رہی ،وہ ایک دوسرے کے خلاف زوردار نعرے بازی کرتے رہے۔ایاز صادق یا علیم خان میں سے کس کے سر پر ضمنی انتخابات میں جیت کا تاج سجے گا ؟،بڑے انتخابی معرکے کے فیصلے کا مرحلہ اب تھوڑا ہی دور رہ گیا ہے۔لاہور شہر کے کئی مقامات میدان جنگ بن گئے، کہیں کرسیاں چلیں تو کہیں مکوں اور لاتوں کا آزادانہ استعمال ہوا۔ ن لیگ اور تحریک انصاف نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا۔چھبتے ہوئے طنزآمیز فقروں اور الزامات سے بھرپور سیاسی بیان بازی کے باعث لاہور میں گزشتہ چند ہفتوں سے جو ماحول بنا ہوا تھا ، وہ آج الیکشن والے روز اسوقت مزید بدنما ہو گیا جب پولنگ کے آغاز پر کئی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اور کیمپ آفس میں حریفوں کی تو تو میں میں گونجنے لگی۔بستی سیدن شاہ میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں آمنے سامنے آگئے۔پہلے پہل ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور پھر نوبت ہاتھا پائی سے کرسیاں چلنے تک پہنچ گئی۔پولیس اہلکار دونوں طرف کے کارکنوں کو بمشکل سنبھالتے رہتے۔سمن آباد میں بھی ن لیگ او رپی ٹی ا?ئی کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہوگیا۔اور پھر ایسی نعرے بازی ہوئی کہ کان پڑی آواز سنائی نا دی۔کریسنٹ اسکول شادمان کالونی میں ایک مقام پر جمع ہونے والے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔گڑھی شاہو کے علاقے میں علیم خان اورایازصادق کی گاڑیاں آمنے سامنے آئیں تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے مخالفانہ نعرے گونجنے لگے جس پر پولیس نے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی۔ دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے مرکزی دفاتر علاقے کی ایک ہی سڑک پر واقع ہیں ،کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لئے پولیس نے کارکنوں کو اپنے اپنے کیمپوں میں رہنے کی ہدایت کررکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…