اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

فرائض میں غفلت، نجی اسپتال پر ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ

datetime 8  اکتوبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)کنزیومر پروٹیکشن کورٹ شرقی کراچی نے ڈیفنس کی رہائشی خاتون کے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے نجی اسپتال کی جانب سے فرائض میں غفلت کے کیس کی سماعت کی۔خاتون کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خاتون گزشتہ سال 13 جنوری کو ڈیلیوری کے لیے نجی اسپتال میں داخل ہوئی تھیں۔

خاتون کے وکیل نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ آپ کے شوہر ساتھ نہیں، لیبر روم میں رشتیدار کو جانے کی اجازت نہیں تو خاتون کے شوہر تمام مصروفیات ترک کر کے بیرونِ ملک سے واپس آئے، لیبر روم میں عملے نے مریض پر توجہ نہیں دی۔خاتون کے وکیل کے مطابق اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا جب تک متعلقہ انچارج ڈاکٹر کی اجازت نہیں ملتی عملہ کچھ نہیں کرے گا۔خاتون کے وکیل نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے بغیر کوئی وجہ بتائے بچے کو وینٹی لیٹر پر رکھا، نجی اسپتال نے سندھ سروسز ڈیلیوری اسٹینڈرڈ ایس او پی کی خلاف ورزی کی۔خاتون کے وکیل کے مطابق اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔

وکیل کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نجی اسپتال پر مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا۔عدالت نے نجی اسپتال کو متاثرہ خاتون کو 1 کروڑ روپے ہرجانہ اور ڈیلیوری چارجز کی مد میں لی گئی رقم بھی واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ فرائض میں غفلت برتنے پر اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹر خاتون کو 50 لاکھ روپے بھی ادا کریں۔علاوہ ازیں اسپتال انتظامیہ کو خاتون کو قانونی چارہ جوئی کی مد میں ڈھائی لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت نے ہرجانے کی عدم ادائیگی پر اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کو ایک سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…