اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

ڈی این اے کی مرمت کا عمل دریافت کرنے پر نوبیل انعام

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سنہ 2015 کا کیمیا کا نوبیل انعام ڈی این اے میں نقائص دور کرنے کے عمل کی تفصیل دریافت کرنے والے سائنس دانوں ٹامس لنڈل، پول ماڈرچ اور عزیز سنجار کو دیا گیا ہے۔
ان کے ناموں کا اعلان بدھ کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔
ٹامس لنڈل ، پول ماڈرچ اور عزیز سنجار نے اپنی تحقیق سے اس عمل کا پتہ چلایا جس کے ذریعے خلیے ڈی این اے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی مرمت کرتے ہیں۔
انعام کے طور پر ملنے والے تقریباً دس لاکھ ڈالر ان تینوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوے ٹامس لنڈل کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میں ماضی میں بھی انعام کے لیے نامزد ہو چکا ہوں، لیکن کئی سو دیگر افراد بھی نامزد ہو چکے ہیں۔آج مجھے نوبیل انعام ملنا میری خوش قسمتی اور میرے لیے باعثِ فخر ہے۔‘
پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈی این اے خاصا پائیدار مالیکیول ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے اور کئی قسم کے کیمیائی اجزا ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے دھویں میں شامل اجزا اور ریڈی ایشن وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جب خلیے تقسیم ہوتے ہیں تب بھی ڈی این اے میں گڑبڑ پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ یہ عمل روزانہ کروڑوں بار دہرایا جاتا ہے۔
ڈی این اے میں در آنے والی ان خرابیوں کے باعث سرطان سمیت دوسری کئی بیماریاں پید ہو سکتی ہیں۔
پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈی این اے خاصا پائیدار مالیکیول ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے اور کئی قسم کے کیمیائی اجزا ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں
اس کی روک تھام کے لیے جسم ایک خصوصی عمل کے ذریعے ساتھ ساتھ ڈی این اے کی مرمت کرتا رہتا ہے۔ نوبیل انعام جیتنے والے ان تینوں سائنس دانوں نے ڈی این اے کی مرمت کے نظام کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
پروفیسر لنڈال نے دریافت کیا کہ ڈی این اے کٹائی کے عمل کے ذریعے خراب حصوں کو کاٹ پھینکتا ہے۔ترکی نڑاد بائیو کیمسٹ عزیز سنجار نے وہ عمل دریافت کیا جس کے تحت ڈی این اے بالائے بنفشی شعاعوں سے پیدا ہونے والے نقصان کا مقابلہ کرتا ہے۔امریکی سائنس دان پال موڈرچ نے یہ دکھایا کہ خلیے تقسیم کے عمل سے گزرنے کے دوران ڈی این اے کے اندر پیدا ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔
اس عمل کے تحت غلطی کی شرح میں ایک ہزار گنا کمی واقع ہو جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…