ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ڈی این اے کی مرمت کا عمل دریافت کرنے پر نوبیل انعام

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سنہ 2015 کا کیمیا کا نوبیل انعام ڈی این اے میں نقائص دور کرنے کے عمل کی تفصیل دریافت کرنے والے سائنس دانوں ٹامس لنڈل، پول ماڈرچ اور عزیز سنجار کو دیا گیا ہے۔
ان کے ناموں کا اعلان بدھ کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔
ٹامس لنڈل ، پول ماڈرچ اور عزیز سنجار نے اپنی تحقیق سے اس عمل کا پتہ چلایا جس کے ذریعے خلیے ڈی این اے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی مرمت کرتے ہیں۔
انعام کے طور پر ملنے والے تقریباً دس لاکھ ڈالر ان تینوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوے ٹامس لنڈل کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میں ماضی میں بھی انعام کے لیے نامزد ہو چکا ہوں، لیکن کئی سو دیگر افراد بھی نامزد ہو چکے ہیں۔آج مجھے نوبیل انعام ملنا میری خوش قسمتی اور میرے لیے باعثِ فخر ہے۔‘
پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈی این اے خاصا پائیدار مالیکیول ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے اور کئی قسم کے کیمیائی اجزا ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے دھویں میں شامل اجزا اور ریڈی ایشن وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جب خلیے تقسیم ہوتے ہیں تب بھی ڈی این اے میں گڑبڑ پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ یہ عمل روزانہ کروڑوں بار دہرایا جاتا ہے۔
ڈی این اے میں در آنے والی ان خرابیوں کے باعث سرطان سمیت دوسری کئی بیماریاں پید ہو سکتی ہیں۔
پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈی این اے خاصا پائیدار مالیکیول ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے اور کئی قسم کے کیمیائی اجزا ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں
اس کی روک تھام کے لیے جسم ایک خصوصی عمل کے ذریعے ساتھ ساتھ ڈی این اے کی مرمت کرتا رہتا ہے۔ نوبیل انعام جیتنے والے ان تینوں سائنس دانوں نے ڈی این اے کی مرمت کے نظام کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
پروفیسر لنڈال نے دریافت کیا کہ ڈی این اے کٹائی کے عمل کے ذریعے خراب حصوں کو کاٹ پھینکتا ہے۔ترکی نڑاد بائیو کیمسٹ عزیز سنجار نے وہ عمل دریافت کیا جس کے تحت ڈی این اے بالائے بنفشی شعاعوں سے پیدا ہونے والے نقصان کا مقابلہ کرتا ہے۔امریکی سائنس دان پال موڈرچ نے یہ دکھایا کہ خلیے تقسیم کے عمل سے گزرنے کے دوران ڈی این اے کے اندر پیدا ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔
اس عمل کے تحت غلطی کی شرح میں ایک ہزار گنا کمی واقع ہو جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…