ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بااثر چوہدریوں نے محنت کش کے گھر داخل ہوکر جوان بیٹی کو بے آبرو کردیا

datetime 15  جون‬‮  2024 |

مریدکے( این این آئی) مریدکے کی آبادی معراج ٹائون میں بااثر چوہدریوں نے محنت کش کے گھر داخل ہوکر جوان بیٹی کو بے آبرو کردیا ،اسلحہ کو نوک پر یرغمال بناکر ماں کے سامنے بیٹی کو برہنہ کردیا اور ویڈیو بناتے رہے ،بیٹی کو بچانے کی کوشش کرنے والی ماں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، محنت کش نے بیوی ،بیٹیوں کے ہمراہ ڈی ایس پی دفاتر کے سامنے احتجاج کیا ، ڈی ایس پی مریدکے نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا ۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر مریدکے کی آبادی معراج ٹائون کے رہائشی محنت کش شہزاد احمد کے مطابق وہ محنت مزدوری کے سلسلہ میں شکر گڑھ گیا ہوا تھا اسکی اہلیہ عائشہ اور تین جوان بیٹیاں گھر میں اکیلی تھیں کہ رات کے وقت محلہ کا بااثر اوباش سجاول اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ مسلح ہوکر دیوار پھلانگ کر انکے گھر داخل ہوا اسکی جوان بیٹی کائنات جوکہ گھر کی چھت پر سوئی تھی کو بے آبرو کرنا چاہا شور مچانے پر اسکی اہلیہ اور دو بیٹیاں مدد کو پہنچیں تو ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ گھر کے تمام افراد کو یرغمال بناکر سب کے سامنے بیٹی کائنات کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کردیا اور تشدد کرکے زخمی کریا ۔بیٹی کی عزت اور جان بچانے کی کوشش کرنے والی ماں عائشہ کے جسم کی ہڈیاں توڑ کر زخمی کرکے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس سے گھر کے درو دیوار چھلنی ہو گئے ۔

ملزمان نے دھمکیاں دیں کہ اگر پولیس کو اطلاع کی تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ۔ محنت کش نے بتایا کہ ملزمان بااثر ہیں اور چند پولیس اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے ،محنت کش بیوی اور بیٹیوں سمیت ڈی ایس پی مریدکے کے دفتر پہنچا اور احتجاج کرتے انصاف اور تحفظ کی اپیل کی ۔ڈی ایس اپی مریدکے چوہدری غلام مرتضی ڈوگر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروادیا اور انکی گرفتاری کا حکم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…