پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

ایک لڑکی نے میرے جنون میں مبتلا منگیتر سے منگنی توڑ ڈالی،سونم باجوہ

datetime 13  جون‬‮  2024 |

ممبئی (این این آئی)مقبول بھارتی اداکارہ سونم باجوہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک لڑکی نے میرے جنون میں مبتلا منگیتر سے منگنی توڑ ڈالی۔سونم باجوہ ان دنوں پنجابی گلوکار و اداکار ایمی ورک کے ہمراہ اپنی فلم ‘کڑی ہریانہ ول دی’ کی پروموشن میں مصروف ہیں، بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کے دوران میزبان کے سوال پر اداکارہ نے حال ہی میں پیش آیا عجیب وغریب واقعہ سنایا۔سونم باجوہ نے بتایا کہ ‘میں ایک تقریب میں شرکت کیلئے اپنے آبائی گھر گئی تھی جہاں سے واپسی پر بریلی ائیرپورٹ پر میں نے ماسک لگایا ہوا تھا، ائیرپورٹ پر ایک خاتون مجھ تک پہنچی اور سوال کیا کہ کیا آپ سونم باجوہ ہیں؟خاتون کے سوال پر میں نے سر ہلادیا، جس کے بعد خاتون نے مجھے کہاکہ ‘ تمہاری وجہ سے میری منگنی ٹوٹ گئی’۔

سونم باجوہ نے بتایا کہ خاتون کی بات سن کر میں ہکا بکا رہ گئی اور مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا ردعمل دوں لیکن پھر خاتون نے مجھے خود ہی بتایا کہ’میں بہت شکر گزار ہوں، میں نے ایک ایسے شخص سے منگنی کی تھی جو آپ کا دیوانہ تھا اور مجھے یہ بات پسند نہیں تھی لہٰذا میں نے وہ منگنی ختم کردی’۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ خاتون نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اب ان کی شادی کسی اور شخص سے ہو چکی ہے اور وہ اپنی شادی سے بہت خوش ہیں، جس کے بعد میں مطمئن ہوگئی۔سونم باجوہ نے مزید کہا کہ اگر میرا پارٹنر بھی میرے بجائے کسی دوسری اداکار ہ کے جنون میں مبتلا ہو تو مجھے بھی اچھا نہیں لگے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…