جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

سرکاری ادارے ملازمین کو پال رہے، ان کو بٹھا کر تنخواہیں دی جارہی ہیں، چیف جسٹس

datetime 25  اپریل‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ سرکاری ادارے ملازمین کو پال رہے ہیں، ان کو بٹھا کر تنخواہیں دی جارہی ہیں۔حیدرآباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے کنٹریکٹ ملازمین کو برطرف کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے اطمینان بخش جواب نا ملنے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا ظہار کیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ سرکاری محکمے کر کیا رہے ہیں ، سرکاری ادارے کیا کررہے ہیں؟ صرف لوگوں کو سرکاری نوکریوں میں بھرا جارہا ہے، صرف ملازمین کو بٹھا کر تنخواہیں دی جارہی ہیں، حکومت کے پاس کچھ کرنے کو چار آنے نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ بس کہا جاتا ہے خدمت کررہے ہیں ، ایک ایک اسامی پر تین تین گنا ملازمین کو بھرتی کررہے ہیں، سرکاری نوکریاں ان کو پکڑنی ہوتی ہیں جو قابل ہی نہیں ہوتے، غیر قانونی بھرتیوں کا بوجھ سندھ کے عوام پر کیوں ڈالیں ؟وکیل درخواست گزار نے ایڈووکیٹ ملک نعیم نے بتایا کہ صدر اور گورنر کے پیکج کے تحت بھرتیاں ہوئیں تھیں، حکومت نے خود پراجیکٹ شروع کیا بعد میں ملازمین کو واپس بھیج دیا۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں حکومت تو نہیں چلانی ، حکومت وہ خود چلائیں، کیا قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں اختیارات کے نام پر، صدر اور گورنر کے پاس کیا اختیار ہے ؟ کیا ان کے پاس اپنے پیسے تھے ؟انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی دھجیاں اڑانے کی اجازت نہیں دیں گے، صدر کے پاس کیسے اختیار آیا کہ جسے چاہیں پیسے بانٹتے رہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ کب ہوا تھا یہ کس نے کیا تھا ؟وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ جنرل مشرف کے دور میں بھرتیاں ہوئی پیکج ملا تھا ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس چیز کی بنیاد ہی غلط ہو پھر یہی ہوتا ہے ، چیز قائم نہیں رہ سکتی، صوبے کے لوگوں کی بات کریں انہیں مل کیا رہا ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سڑکیں، پانی، بجلی کیا مل رہا ہے؟ کیا سارا پیسہ تنخواہوں میں دیتے رہیں گے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…