جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

صدقہ فطر اورفدیے کی کم ازکم مقدار300روپے فی کس ہے،مفتی منیب الرحمن

datetime 13  مارچ‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہاہے کہ رمضان میں صدقہ ، فطر اورفدیے کی کم ازکم مقدار300روپے فی کس ہے۔تفصیلات کے مطابق مفتی منیب الرحمان نے فطرہ ،فدیہ صوم اور کفارہ صوم کا اعلان کردیا، رمضان میں صدقہ ، فطر اورفدیے کی کم ازکم مقدار300روپے فی کس ہے۔مفتی منیب الرحمان نے بتایا کہ اہلِ ثروت مالی حیثیت کے مطابق فطرہ ، فدیہ اور کفارہ اداکریں۔

انہوں نے کہاکہ گندم کا آٹا 2کلو فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ 300روپے ہوگا ، جوچارکلو فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ 600روپے ہوگا۔کھجور چار کلو فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ 2400روپے جبکہ کشمش چارکلوفطرہ اور ایک روزے کا فدیہ 4400روپے ہوگا۔مفتی منیب الرحمان نے مزید بتایا کہ روزہ توڑنے کا کفارہ 60مساکین کو 2وقت کا کھانا کھلانا ہے ، یہ فطرہ، فدیہ اور کفارات کی کم از کم مقدار ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تمام اجناس کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ جن خوش نصیب افراد کو اللہ تعالی نے وافرنعمتِ دولت سے نوازا ہے ، وہ اپنی حیثیت کے مطابق فطرہ ادا کریں ، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:”اورجو کوئی خوش دلی سے زیادہ دے ،تو یہ اس کے لیے بہتر ہے،(البقرہ:184) ۔

مفتی منیب الرحمن نے کہاکہ فدیہ دائمی مریض یا ایسے انتہائی ضعیف العمر افراد کے لیے ہے ، جونہ روزہ رکھنے پر قادر ہوں اور بظاہر ان کی بحالی کے آثار بھی نہ ہوں۔ عارضی مریض یا مسافر جو مرض یا سفر کے عذر کی بناپر روزہ نہ رکھیں ،ان پر صحت یاب ہونے یا سفر سے واپسی پر اپنی سہولت کے مطابق قضا ہے،فدیہ اس کا بدل نھیں ہے ۔جوشخص روزہ رکھ کر کسی عذر کے بغیر توڑ دے ، اس پر کفارہ ہے اوروہ ساٹھ مسلسل روزے اورایک روزے کی قضا ہے ، اگر یہ روزہ رکھنے پر قدرت نہ رکھتاہوتوپھر مالی کفارہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…