جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

تحریکِ انصاف نے صدر کے انتخاب کو غیر آئینی ، ناقابل قبول قرار دیا

datetime 9  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف نے صدر کے انتخاب کو غیر آئینی اور ناقابلِ قبول قرار دیا کیونکہ ایک طرف مینڈیٹ چوروں صدر کے انتخاب میں ووٹ ڈال رہیہیں اور دوسری طرف اعلی اینی منصب کیلئے ضروری الیکٹورل کا لج نا مکمل ہے۔جاری اعلایمہ کے مطابق غیر آئینی صدارتی انتخابات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئیپاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان نے کہا کہ غیر منتخب اراکین کا ووٹ ، جنہوں نے چوری شدہ مینڈیٹ پرجعلی حلف اٹھایا، صدر کے انتخاب کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ الیکٹورل کالج مکمل کیے بغیر اعلی ترین آئینی عہدے کے لئے انتخابی آئین کی خلاف ورزی غیر قانونی ہے اور دن کی روشنی میں عوامی مینڈیٹ کی چوری کے بعد ، عدالتی حکم کوپیروں تلے روندتے ہوئے مسترد شدہ لوگوں کو قومی اور پنجاب اسمبلیوں کے ارکان بنانا عدالتی انصاف کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے واضح کیا کہ صدارتی انتخابات میں جعلی فارم 47 کی بنیاد پر غیر منتخب اراکین اور اسمبلی میں بیٹھے افراد کے ووٹوں کی کوئی قانونی اور آئینی قدر اور حیثیت نہیں یے ، رات کے اندھیرے میں پاکستان تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کرنے اور اسے مخصوص نشستوں کے آئینی حق سے محروم کرنے کا واحد منصوبہ ملک کے اعلی ترین آئینی منصب پر مسترد شخص کے انتخاب کو یقینی بنانا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے یاد دلایا کہ جنہوں نے کل تک ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی دھمکی دیتے تھیں ، اور ایک دوسرے کو لوٹ مار کرنے والے ڈاکوں کا لیبل لگایا تھا وہی آج ایک بار پھر قومی خزانے کو بے رحمی سے لوٹنے کے لیے اپنے مفادات کے لیے متحد ہو گئے ہیں۔

ترجمان تحریکِ انصاف نے مطالبہ کیا کہ عوام کے مینڈیٹ کی مسلسل توہین کرتے ہوئیملک میں آئین اور قانون کی پامالی کا بد ترین سلسلہ روکا جائے کیونکہ پاکستانی قوم اپنی مر ضی کے خلاف کرپٹ ترین افراد کو ملک کے صدر وزیرِ اعظم کی حثیت سے کبھی بھی قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی (آج اتوار کوملک بھر میں اپنے پیارے رہنما عمران خان کی کال پر پرامن احتجاج کرے گی تاکہ مینڈیٹ چوروں سے چوری شدہ مینڈیٹ واپس لے سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…