جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی خاتون اپنے والد کی یاد میں لاہور کا تھانہ دیکھنے پہنچ گئیں

datetime 24  فروری‬‮  2024 |

لاہور ( این این آئی)کینیڈا سے آنے والے سکھ خاتون نے فیملی کے ہمراہ لاہور کے اس پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا جہاں تقسیم سے قبل ان کے والد تھانیدار تعینات تھے۔تفصیلات کے مطابق کینیڈا سے ایک سکھ خاتون اپنی فیملی کے ساتھ لاہور کا وہ پولیس اسٹیشن دیکھنے پہنچیں، جہاں 1947کی تقسیم سے قبل ان کے والد سردار بنتا سنگھ ڈھلوں بطور تھانیدار تعینات رہے تھے۔راجونت کور کے مطابق 1947ء کی تقسیم میں ان کے والد سردار بنتا سنگھ ڈھلوں کو بھی دوسرے سکھ اور ہندو خاندانوں کی طرح لاہور اور اپنا گھربارچھوڑنا پڑا تھا۔

ان کا خاندان ہجرت کرکے انڈیا چلا گیا جہاں 1949میں ان کی پیدائش ہوئی۔راجونت کور بمشکل ڈیڑھ سال کی تھیں جب ان کے والد کا بھی انتقال ہوگیا۔ وہ اپنے والد کی تصویرخوابوں اورخیالوں میں لیکرجوان ہوئیں۔ راجونت کور کے شوہر وریام سندھو نامور کہانی نویس اورشارٹ فلموں کے بادشاہ مانے جاتے ہیں۔دونوں میاں بیوی کے پاس انڈیا کے علاوہ کینیڈا کی بھی شہریت ہے، گزشتہ روز جب راجونت کور قلعہ گجرسنگھ پولیس اسٹیشن دیکھنے پہنچی تو ایس ایچ او کی کرسی پر بیٹھے یونس بھٹی نے ان کا استقبال کیا۔

ایس ایچ او یونس بھٹی نے بزرگ سکھ خاتون کو عزت دی اور احتراما انہیں اپنی خالی کرسی پربٹھایا۔ انہوں نے راجونت کو ر سے سے کہا ماں جی ،اس وقت اس کرسی پرآپ کے والد بیٹھے تھے اور آج یوں سمجھ لیں آپ کا بیٹا بیٹھا ہے۔راجونت کور پنجاب پولیس کا یہ برتا اور مہمان نوازی دیکھ کرآبدیدہ ہوگئیں ۔ وہ تھانے کے درودیوارچومتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا انہیں اس تھانے کی درودیوار میں اپنے والد کی خوشبومحسوس ہوتی ہے۔سکھ مہمانوں نے پنجابی پرچار تنظیم کے سربراہ احمد رضا کا بھی شکریہ اداکیاجنہوں نے یہ ممکن بنایا کہ وہ اپنے والد سے جڑی یادگاروں کو دیکھ سکیں ۔راجونت کور اور ان کے شوہر نے لاہور کے دیگر اہم اورتاریخی مقامات کا دورہ بھی کیا اور جمعہ کے روز واہگہ بارڈر کے راستے واپس انڈیا لوٹ گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…