جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عمران ریاض کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

datetime 23  فروری‬‮  2024 |

لاہور ( این این آئی) لاہور کی ضلع کچہری نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صحافی عمران ریاض کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے عمران ریاض کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی۔صحافی عمران ریاض خان کو لاہور ضلع کچہری میں پیش کیا گیا۔عمران ریاض کو 22اور 23فروری کی درمیانی شب سادہ کپڑوں میں ملوث اہلکاروں نے گھر سے گرفتار کیا تھا۔عمران ریاض اور ان کے والد پر تھرابی جھیل کا ٹھیکہ اونے پونے داموں لینے کا الزام ہے۔عمران ریاض نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ یہ لوگ میرے گھر آئے میں نے خود گرفتاری دی، میں نے انہیں کہا کہ میرے گھر میں داخل نہیں ہونا، انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور پھر گھر میں داخل ہوئے۔صحافی نے دعویٰ کیا کہ اہلکار 15منٹ تک میرے گھر کی تلاشی لیتے رہے ہیں، جس ٹھیکے کا کہہ رہے ہیں کہ اونے پونے داموں لیا، جھوٹ بول رہے ہیں۔

عمران ریاض نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ تھرابی جھیل کا گزشتہ ٹھیکہ ایک کروڑ 10لاکھ کا تھا، ہم نے یہ ٹھیکہ 4 کروڑ روپے سے زائد کا لیا۔بعدازاں اینٹی کرپشن حکام نے عمران ریاض کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عمران ریاض کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عمران ریاض کے خلاف مقدمہ قانون کے منافی درج کیا گیا، عمران ریاض کے والد کبھی کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہے۔وکیل اظہر صدیق کا مزید کہنا تھا کہ عمران ریاض کے خلاف جھوٹ پر مبنی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی، صحافی نے قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچایا، عمران ریاض کو دہشت گردوں کی طرح گرفتار کیا گیا۔انہوں نے موقف اپنایا کہ اینٹی کرپشن کے پاس کوئی ثبوت یا دستاویزات موجود نہیں ہے۔عمران ریاض نے عدالت میں مقف اپنایا کہ مجھے کوئی ایک لیگل ڈاکومنٹ دکھا دیں جس میں کوئی غیر قانونی چیز لکھی ہو، مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ انہوں نے میرے باپ کو کرپٹ کہا، جن لوگوں کا تعلق میرے والد سے ہے، وہ ان کو جانتے ہیں، میرے والد کو اس ایف آئی آر سے نکال دیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 25مقدمات کا سامنا کیا ہے مگر ایک دن میری آنکھ نم نہیں ہوئی، مجھے اپنی عدلیہ سے بڑی امید ہے، اگر میں بولتا ہوں تو مجھے اللہ یا پھر عدلیہ کی اس کرسی کا سہارا ہوتا ہے، میں کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرتا رہوں گا۔عمران ریاض نے کہا کہ سارا ظلم اپنی اس جان پر سہا ہے، آج میری زبان میں دوبارہ اگر لکنت ہے تو اس کی وجہ میرے والد کو کرپٹ کہا گیا۔صحافی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے اور لوگ میرے اپنے ہیں اگر مجھے مارتے ہیں توسہہ لیتا ہوں، مجھے آج اگر ان کے حوالے کیا جائے گا تو ہوسکتا ہے وہاں پر مجھ سے کوئی اور لوگ ملنے آئیں، مجھے پر تشدد کریں، میں وہ ظلم بھی برداشت کرلوں گا۔

عمران ریاض نے کہا کہ میرے بہت سارے صحافی دوست مشورے دیتے ہیں تم اس ملک سے چلے جا، بیرون ملک میں جاکر پراپرٹی خرید لو، مگر میں ان کو کہتا ہوں جب تک ہوں اسی ملک میں رہوں گا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جو کمایا ادھر ہی پراپرٹی خریدی اور ادھر سب خرچ کیا، مجھے امید ہے یہ ملک ایک دن ٹھیک ہوگا اس ملک نے ہمیشہ ایسا نہیں رہنا۔بعد ازاں عدالت نے اینٹی کرپشن کی جانب سے عمران ریاض کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا اور کچھ دیر بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اینٹی کرپشن کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عمران ریاض کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…