جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عام انتخابات میں ناکامی، جے یو پی کے عہدیداران مستعفی

datetime 18  فروری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)عام انتخابات میں ناکامی کے بعد جمعیت علما پاکستان کے عہدیداران اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما شاہ اویس نورانی نے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کردتے ہوئے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔شاہ اویس نورانی نے کہاکہ سیاسی جماعتیں بالخصوص عدلیہ جرائم کا اعتراف کریں، 8 فروری کے انتخابات دھاندلی کی بدترین مثال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے بے توقیر ہوچکے ہیں اور افراد کا احترام ختم ہو چکا ہے، انتخابات میں جو ہوا اس کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر رسوائی ہوئی ہے، 8 فروری کے انتخابات دھاندلی کی بدترین مثال ہیں۔انہوں نے کہاکہ سیاسی پولرائزیشن اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ گھروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، تجربات کرکے ملک کو اس سطح تک پہنچادیا کہ کوئی ملک کا اقتدار لینے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ہمارے ساتھ بدترین ظلم ہوا ہے، ہمیں اپنے ووٹ گننے کے حق سے بھی محروم کیا گیا، اب جس کا بھی مینڈیٹ ہے اس کو حکومت دینا چاہیے، کسی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا نہیں ڈالا جانا چاہیے، اگر اکثریت نہیں ہے تو شہباز شریف کو حکومت میں نہیں بیٹھنا چاہیے، اگر تحریک انصاف کا مینڈیٹ ہے تو اقتدار ان کو دینا چاہیے۔اویس شاہ نورانی نے کہا کہ اگر اب گرینڈ ڈائیلاگ نہ ہوا تو پاکستان میں کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے نہ ہونے کی وجہ سے مذہبی جماعتوں کا کردار متاثر ہوا ہے، ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ بیٹھنا تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ ہے۔

شاہ اویس نورانی نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ مرکز کو بھیج دیا ہے، چاروں صوبائی صدور اور جنرل سیکرٹریز بھی اپنا استعفے دیں گے، ہم دوبارہ تنظیم سازی کریں گے اور جے یو پی کو از سر نو منظم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر غیر ملکی دبائو کی وجہ سے بھی مذہبی جماعتوں کو الیکشن میں دیوار سے لگایا گیا، ہم اس الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے ابھی رابطہ نہیں کیا، اگر رابطہ ہوا تو ہم سوچیں گے، جنھیں سیٹیں ملیں اور وہ دھاندلی کا کہہ رہے ہیں انہیں پھر پارلیمان میں نہیں جانا چاہیے، جنہیں سیٹیں نہیں ملیں انہیں پارلیمان سے باہر رہ کر آواز اٹھانی چاہیے پرامن احتجاج کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…