جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سائفر میرے آفس میں تھا، ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اور ملٹری سیکرٹری کی ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی

datetime 30  جنوری‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)بانی پی ٹی آئی نے خصوصی عدالت کے روبرو 342 کا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ سائفر میرے آفس میں تھا، ذمہ داری پرنسپل سیکریٹری اور ملٹری سیکریٹری کی ہوتی ہے، بتانا چاہتا ہوں کہ اصل سازش کیسے ہوئی۔بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ساڑھے3 سال کے دوران بطور وزیراعظم صرف سائفرکی ایک دستاویزغائب ہوئی۔بانی پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ سائفرگمشدگی پرملٹری سیکریٹری سے کہا کہ اس کی انکوائری کرو جس پر ملٹری سیکریٹری نے کہا انکوائری کی، سائفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 2 کروڑ 30 لاکھ ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا، منتخب وزیراعظم کیخلاف سازش میں جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لو شامل تھے، حسین حقانی نے جنرل باجوہ کے کہنے پرمیرے خلاف لابنگ کی۔

عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جنرل باجوہ سے ملاقات کیلئے تین رکنی کمیٹی بنائی، کمیٹی میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویزخٹک شامل تھے، جنرل باجوہ نے کمیٹی کو کہااپنی سمت درست کرو ورنہ 12 سال کیلئے اندرجاؤ گے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ روس سے واپس آیاتوشاہ محمودقریشی نے مجھے سائفرپیغام سے آگاہ کیا، اس دوران میری باجوہ سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں جس میں باجوہ سے کہا اگر حکومت گرائی گئی تو پاکستانی معیشت ڈوب جائیگی اور سیاسی عدم استحکام آنیوالی حکومت نہیں سنبھال سکے گی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جلسے میں جو کاپی لہرائی وہ سائفر کی پیرا فریز کاپی تھی، 22اگست کو ایوان صدر میں میری جنرل باجوہ سے پھر ملاقات ہوئی جس میں جنرل باجوہ نے کہاسائفر پر بات نہ کرو، جنرل باجوہ نے کہا میرجعفر، میرصادق کہنا بند کرو، باجوہ نے کہا تمہارے اوپر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لاگو ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…