ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں کینو کی قدرتی مزاحمت ختم، پیداوارمیں شدید کمی

datetime 2  جنوری‬‮  2024 |

مکوآنہ (این این آئی)کینو کے معیار کے مسائل کی وجہ سے پاکستان سے کینو کی 22کروڑ ڈالر کی ایکسپورٹ خطرے میں پڑ گئی، پانچ ماہ کا سیزن ڈیڑھ ماہ تک محدود رہا جس کے باعث 50 فیصد پراسیسنگ فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔ایکسپورٹ آرڈرز میں نمایاں کمی کا سامنا ہے، کینو کی صنعت سے وابستہ چار لاکھ افراد کا روزگار اور کینو پراسیسنگ فیکٹریوں میں کی گئی 300ارب روپے کی سرمایہ کاری پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد نے پاکستان سے کینو کی ایکسپورٹ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی سطح پر کینو کی صنعت کے تحفظ اور بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

.پاکستان چند سال قبل تک ساڑھے چار لاکھ ٹن کینو کی ایکسپورٹ سے 22کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کر رہا تھا تاہم اس سال یہ حجم ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے جس سے بمشکل 10کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔پاکستان میں وسطی پنجاب کے علاقے سرگودھا اور بھلوال اپنے خوش ذائقہ اور رسیلے ترش پھل کینو کی پیداوار کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے کینو کے باغات اس علاقے کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں کینو کی فارمنگ سے لے کر پراسیسنگ اور پیکنگ تک کے مراحل سے 4لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے اور 200 کے لگ بھگ ایکسپورٹ فیکٹریوں میں 300ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

پاکستان میں کینو کی موجودہ ورائٹی 60سال قبل متعارف کرائی گئی اور وقت کے لحاظ سے یہ ورائٹی بیماریوں کے خلاف اپنی قدرتی مزاحمت کھو بیٹھی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے کینو کی ورائٹی کو مزید کمزور کر دیا جس کا نتیجہ پیداوار میں نمایاں کمی بالخصوص معیار کی خرابی کی شکل میں نکل رہا ہے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن گزشتہ چھ سال سے پنجاب حکومت اور وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور متعلقہ زرعی تحقیق کے اداروں کی توجہ کینو کی پیداوار کو لاحق ان خدشات سے آگاہ کرتی رہی ہے تاہم حکومتی توجہ نہ ملنے کی وجہ سے اب کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کماکر دینے والی یہ صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور آئندہ دو سال میں پاکستان سے کینو کی ایکسپورٹ مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…