جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لیول پلیئنگ فیلڈ، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے وکلا سے ملاقات کرنے کا حکم

datetime 22  دسمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے پی ٹی آئی کی درخواست سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے وکلا سے ملاقات کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دیگر ارکان میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ شامل ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بظاہر لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عثمان ڈار کے گھر جو ہوا وہ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن شیڈول جاری ہوچکا،اب بھی ایم پی او کے آرڈر جاری ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی امیدواروں کو کاغذات نہیں دیے جارہے، نہ جمع کرانے دیتے ہیں۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایم پی او کے آرڈر کیوں نہیں رکوا رہا؟ جسٹس سردارطارق مسعود نے کہا کہ ابھی حکم نامہ لکھ کر بھجواتے ہیں۔

جسٹس سردارطارق نے الیکشن کمیشن حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام شکایات کا جائزہ لیکرحل کریں۔شعیب شاہین نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کاغذات وصول نہیں کرتے تو الیکشن کمیشن کوجمع کرانے کی اجازت دی جائے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی جماعتوں کو شکایات ہیں توالیکشن کمیشن کام نہیں کر رہا، ایک سیاسی جماعت کو کیوں الگ ڈیل کیا جارہا ہے؟ سب کیساتھ یکساں سلوک ہی لیول پلیئنگ فیلڈ ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ تمام شکایات سن کر ازالہ کرے جس کے بعد الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل نے تعاون کی یقین دہانی کروادیجسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب،اس تمام معاملے کا حل کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حل یہی ہے کہ الیکشن کمیشن تمام آئی جیز سے رپورٹ طلب کریاور یقینی بنائے کہ کسی امیدوارکو مسئلہ پیش نہ آئے۔جسٹس سردارطارق مسعود نے کہا کہ تمام آئی جیز کو کہیں کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو تنگ نہ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…