جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اسکاٹ لینڈ کے ایک شہری کو جہاز کا در وازہ کھولنا مہنگا پڑگیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈ یسک ) اسکاٹ لینڈ کے ایک شہری کو 30 ہزار فٹ بلندی پر جہاز کے دروازے کو باتھ روم کا دروازہ سمجھ کر کھولنے کی کوشش مہنگی پڑگئی اور بے پرواہ شخص کو پوری رات جیل میں گزارنے کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا۔
اسکاٹش میڈیا کے مطابق رائل ڈچ ایئر لائنز کی پرواز اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈن برگ سے ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم جارہی تھی کہ 30 ہزار فٹ بلندی پر ایک اسکاٹش شہری جیمز گرے نے مبینہ طور پرجہاز کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ کھل سکا جب کہ اس موقع پر مسافروں اورجہاز کے عملے کے ہوش اڑ گئے اور عملے کے افراد نے فوری طور پراسکاٹش شہری کوسیٹ پر بیٹھنے کو کہا اور جہاز کے ٹیک آف کرنے تک اس کی نگرانی بھی کی تاہم جیمز کا مو¿قف تھا کہ اس کا مقصد جہاز کا دروازہ کھولنا نہیں بلکہ وہ تو صرف باتھ روم جانا چاہتا تھا۔
جہازجب ایمسٹرڈم کے ایئرپورٹ پرپہنچا تو انہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے کرقریبی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا جہاں اسے پوری رات حوالات میں ہی گزارنی پڑی جب کہ مسافروں کو خوفزدہ کرنے اور ہوائی سفر کے دوران نامناسب رویہ اختیار کرنے کے الزام میں جیمز کو 65 ہزار روپے جرمانہ بھی اداکرنا پڑا۔ ایمسٹرڈم میں اپنا کام مکمل کرکے جب وہ واپس اسکاٹ لینڈ آنے کے لیئے اپنے ریٹرن ٹکٹ کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچا تو ڈچ ایئر لائنز کے عملے نے انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا اور انہیں بتایا گیا کہ وہ 5 سال تک اس ایئرلائن کے ذریعے سفر نہیں کرسکتے جس پر جیمز کو اپنے ایک دوست سے ادھار رقم لے کر ایک دوسری ایئر لائن کے ذریعے ایڈن برگ آنا پڑا۔
واضح رہے کہ ہوائی سفر کی تاریخ میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں 2 سال قبل سینٹ لوشیا سے لندن جانے والے برٹش ایئر ویز کے طیارے میں بھی سری لنکا اے کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی نے نشے کی حالت میں اچانک اٹھ کر دروازہ کھولنے کے لئے زور لگانا شروع کردیا تھا جس کی وجہ سے مسافروں سمیت جہاز کا عملہ خوفزدہ ہوگیا تھا اور بعد ازاں کھلاڑی پر 2 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…