جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امیر ترین تاجر اپنی کمپنی چھوڑ کر روحانی فرقے میں شامل

datetime 24  ستمبر‬‮  2015 |

نئی دہلی (نیوزڈیسک)بھارت میں صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور تاجر نے اپنی کمپنی کو چھوڑ کر ایک روحانی فرقے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔شوندر ایم سنگھ فورٹس ہیلتھ کیئر لمیٹڈ کے ایگزیکٹو نائب چیئرمین تھے۔ اب ان کا تعلق رادھا سوامی ست سنگ بیز (آر ایس ایس بی) سے ہے۔آر ایس ایس بی خود کو ’ایک فلسفیانہ تنظیم‘ کہتی ہے جو ’تمام مذاہب کی روحانی تعلیمات پر مبنی ہے۔فورٹس بھارت میں سب سے بڑی صحت کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو دبئی، ماریشس اور سری لنکا میں بھی کام کرتی ہے۔فورٹس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں شوندر سنگھ نے کہا ’میرے وجود کا ایک بہت بڑا مقصد لوگوں کی جانیں بچانا ہے جسے پورا کرنے کے لیے میں نے فورٹس کو قائم کرنے میں دو دہائیاں لگا دیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے حوصلہ افزائی ملی کہ میں ایک براہ راست سروس دوں اور اپنے معاشرے کو اتنا دوں جتنا مجھے ملا ہے۔انھوں نے مزید کہاکچھ دیر پہلے میں نے امرتسر کے قریب رادھا سوامی بیز کے مرکز کو اپنی خدمات پیش کیں اور خوش قسمتی سے مجھے قبول کر لیا گیا ہے۔بیان کے مطابق سنگھ کا نام ابھی بھی کمپنی سے جڑا ہوا ہے لیکن وہ کمپنی کے فیصلہ سازی میں کردار ادا نہیں کریں گے۔سنگھ کے بڑے بھائی مالوندر سنگھ اب کمپنی کو سنبھالیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی کے اس فیصلے کی وہ ’پوری حمایت‘ کرتے ہیں۔سنگھ خاندان کے پاس کمپنی کا 71 فیصد کنٹرول حاصل ہے جو کہ تقریباً 848 ملین ڈالر کے برابر ہے۔اکنامک ٹائمز اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت میں آر ایس ایس بی کے کئی پیروکار ہیں۔کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ’مراقبے کے روحانی عمل کو مزید بڑھانا چاہتی ہے۔اس عمل کے اراکین صرف سبزیاں کھاتے ہیں، شراب اور نشہ نہیں کرتے اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ’اعلیٰ اخلاقی اقدار‘ کی زندگی گزاریں۔اس روحانی فرقے کے مشہور پیروکار میں بالی وڈ اداکار شاہد کپور بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…