منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مہنگی گاڑیاں رکھنے والوں کیلئے بری خبر

datetime 23  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ایف بی آر نے نئی آٹو پالیسی کے تحت سی بی یو کنڈیشن میں یوروٹو ٹریکٹرز پر 10 فیصد جبکہ اس سے اوپر کے ٹریکٹرز پر15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے البتہ ہائی برڈ گاڑیوں کے پارٹس کی درآمد پر رعایتی ڈیوٹی کی سہولت دینے کی مخالفت کردی جبکہ بسوں کی سی بی یو کنڈیشن میں درآمد پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے سی بی یو کنڈیشن میں درآمد پر 20 فیصد ڈیوٹی کی تجویز دی ہے۔ دستیاب دستاویز کے مطابق نئی 5 سالہ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ پالیسی میں ایف بی آر نے سی کے ڈی کنڈیشن میں ڈبل ایکسل ٹرک اور اوپر کے سی کے ڈی کنڈیشن ٹرکوں کیلیے کسٹمز ڈیوٹی کی شرح الگ الگ مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے، اسی طرح سی بی یو کنڈیشن میں ڈبل ایکسل والے ٹرکوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح 30 فیصد جبکہ اوپر کے ٹرکوں پر شرح 15 فیصد مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے جبکہ ای ڈی بی نے سی بی یو کنڈیشن میں ڈبل ایکسل والے ٹرکوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح 30 جبکہ اوپر کے ٹرکوں پر 20 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے ایچ ایس کوڈ 8711 کے زمرے میں آنے والے موٹرسائیکل اور رکشا کیلیے آٹوپالیسی کی سمری میں تجویز کردہ ٹیرف پلان سے اتفاق کیا ہے۔ جس کے تحت ایف بی آر نے مقامی سطح پر تیار نہ ہونے والے سی کے ڈی کنڈیشن میں موٹر سائیکل و رکشا کی درآمد پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے سی کے ڈی کنڈیشن میں موٹر سائیکل و رکشا کے پارٹس پر 47.5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے پر اتفاق کیاہے جبکہ ای ڈی بی نے سفارش کی ہے کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے سی کے ڈی کنڈیشن میں موٹر سائیکل و رکشا پارٹس کیلیے پریوینٹو ڈیوٹی میں ہر سال بتدریج کمی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…