جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

قانون کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے بعد کسی رکن کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے، رضا ربانی کا علی وزیر کی گرفتاری پر ردعمل

datetime 22  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے بعد کسی رکن کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ایک بیان میں سینیٹر رضا ربانی نے رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری پر ردعمل دیا اور کہا کہ علی وزیر کی گرفتاری پارلیمنٹ استحقاق ایکٹ 2023 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے بعد کسی رکن کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا، اگر کسی ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) میں گرفتار کیا گیا ہے تو 24 گھنٹے کے اندر اسپیکر کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔پی پی سینیٹر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو ایف آئی آر کی ایک کاپی فراہم کی جانی چاہیے تھی، سیکشن 5 استحقاق ایکٹ کے تحت گرفتاری کی اطلاع اسپیکر کو دی جانی چاہیے تھی۔انہوںنے کہاکہ ایف آئی آر کے اندراج کی وجوہات اسپیکر کو فراہم کی جانی چاہیے تھیں، سیکشن7 استحقاق ایکٹ کے تحت اسپیکر کو علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے چاہئیں۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اسپیکر پروڈکشن آرڈر جاری کریں تاکہ علی وزیر بجٹ 24-2023 اجلاس میں شرکت کرسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…