جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی چیئرمین کی طرف سے ایک سال مسلسل آرمی چیف اور افسران کے خلاف الزامات لگائے گئے، فیاض الحسن چوہان کا دعویٰ

datetime 14  جون‬‮  2023 |

راولپنڈی(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کے جے آئی ٹی میں دیئے گئے بیان میں پر ترجمان استحکام پاکستان پارٹی فیاض الحسن چوہان نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی طرف سے ایک سال مسلسل آرمی چیف اور افسران کے خلاف الزامات لگائے گئے۔

اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ قاتلانہ حملے اور جان لینے کے الزامات صبح شام فوج کے اعلی افسران ہر لگائے گئے،ثبوت دینے کے وقت پی ٹی آئی چیئرمین نے ثبوت نہ ہونے کا دعویٰ کردیا۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ جے آئی ٹی میں کہا کہ مجھے لوگوں نے بتایا تھا کہ فوج اور ایجینسی کے اعلی حکام میری جان کے درپے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد ہر 24 کروڑ عوام کے ذہنوں میں اپنی ہے فوج کے خلاف زہر بھرنے کی کوشش کی۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ اسی الزام کی بنیاد پر ہر ہفتے پاکستان میں فساد فی الآرض برپا کیا جاتا رہا،اسی الزام کی بنیاد پر لاکھوں نوجوانوں کو اپنی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف باغی بنایا گیا۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ شرعی طور پر بغیر ثبوت قتل کا الزام لگانا انتہائی بھیانک گناہ کبیرہ ہے۔انہوںنے کہاکہ عوام کا ذہن ،معیشت اور ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے بعد ثبوت دینے سے انکاری ہونا قابلِ مذمت ہے۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی چئیرمین کو ثبوت فراہم نہ کرنے پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…