منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پشاور فضائیہ کے کیمپ پر طالبان حملہ نو ماہ پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے کی طرح منظم تھا،غیرملکی میڈیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر جمعہ کو ہونے والا طالبان حملہ نو ماہ پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے ہی کی طرح ایک منظم حملہ تھا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ فوجی آپریشنوں کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ بدستور ملک کے کسی بھی حساس مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول اور حالیہ دونوں حملوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں واقعات میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک ہی طرح کا طریقہ کار استعمال کیا گیا۔سکول حملے میں چھ خودکش حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہوکر بچوں اور اساتذہ کو ہلاک کیا اور جمعے کو بھی 14 شدت پسندوں نے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں حملے انتہائی حساس مقامات پر کیے گئے جہاں جانے کیلیے کئی سکیورٹی چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینیئر تجزیہ کار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک سکول کی طرح ایک اور حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن شاید پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ شہروں میں شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ بدستور فعال ہے چاہے وہ خیبر پختونخوا اور پنچاب میں ہوں یا ملک کے دیگر حصوں میں۔ان کے مطابق اس واقع میں کسی حد تک پولیس اور دیگر اداروں کی ناکامی بھی نظر آتی ہے کیونکہ ایک درجن سے زیادہ دہشت گرد کیسے اتنے اہم اور حساس علاقے میں داخل ہوئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کانوں کان خِبر نہیں ہوئی۔ڈاکٹر خادم حسین کے بقول مرکز اور صوبوں کو مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس کی ذمہ داری لینے ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں پھر سے ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…