ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

چین کا اہم منصوبے کے لیے پاکستان کو ایک ارب یوآن قرض دینے کا فیصلہ

datetime 19  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نےپاکستان کواسپیس سینٹر منصوبےکیلئے ایک ارب یوآن قرض دینے کا فیصلہ کرلیا-وفاقی کابینہ نے منصوبے کیلئے قرض معاہدے کی منظوری دیدی-قرضہ سالانہ دو فیصد شرح سود پر ملے گا ۔روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی خبر کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے

کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان سپیس سینیٹر منصوبے کے قیام کیلئے چین کے ساتھ ایک ارب یوآن قرضے کے معاہدے کی سمری سرکولیشن سمری کے منظور کرلی-ذرائع کے مطابق قرض پر سالانہ دوفیصد سود-ون ٹائم مینجمنٹ فیس صفر اعشاریہ دو پانچ اور قرض پرسالانہ صفر اعشاریہ دو فیصد کمیٹمینٹ چارجز ہوں گے-قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے14نومبر 2018 کو 29 ارب51 کروڑ روپے کی لاگت سے پاکستان اسپیس سینیٹر کے قیام کا منصوبہ منظور کیا تھا جس کے تحت فارن ایکسچینج کا حصہ 22 ارب روپے سے زائد رکھا گیا-پاکستان نے سپیس سینٹر کے قیام کے منصوبے کیلئے چین سے رعایتی قرضے کی درخواست کی جس کے بعد چین کے ایگزم بنک نے ایک ارب یوآن قرض معاہدے کا مسودہ پاکستان کو بھجوایا-قرض معاہدے کے مسودے کی پہلے وزارت قانون،وزارت خزانہ اور سپارکو سے توثیق کرائی گئی جس کے بعد اب وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے-وزیر اعظم پاکستان کے دورہ چین کے دوران 2 نومبر 2022 کو پاکستان سپیس سینیٹر کے قیام کے منصوبے پر دونوں ممالک نے بین الحکومتی فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…