اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

ٹیریان کیس، کیا عوام کو پتہ نہیں ہوناچاہیے کہ ان کے نمائندے کے فیملی ممبرز کون کون ہیں؟ جسٹس محسن اختر کیانی

datetime 29  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)مبینہ بیٹی ٹیریان کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دور ان جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا عوام کو پتہ نہیں ہوناچاہیے کہ ان کے نمائندے کے فیملی ممبرز کون کون ہیں؟۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ

نے کیس کی سماعت کی، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر بھی لارجر بینچ میں شامل ہیں۔عمران خان کے وکلاء سلمان اکرم راجہ، ابو ذر سلمان خان نیازی جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔درخواست کے قابل سماعت ہونے پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو فنانشلی طور پر زیر کفالت ہیں ان سے متعلق بیان حلفی میں ذکر کرنے کا کہا گیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ کیا عوام کو پتہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے نمائندے کے فیملی ممبرز کون کون ہیں؟الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ بیان حلفی آج بھی نامزدگی فارم کا حصہ ہوتا ہے۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے زیر کفالت ہونے سے متعلق پانامہ پیپرز کیس کا حوالہ دیا اور ٹیریان سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 فیصلوں کا حوالہ دیا، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دونوں پٹیشنز میں اسی طرح کے الزامات لگائے گئے تھے، کیلیفورنیا عدالت کا فیصلہ یکطرفہ تھا، درخوست گزار شہری کون ہیں؟میں نے کبھی نہیں دیکھا، درخواست گزار کی جمع کرائی گئی فیصلوں کی نقول تصدیق شدہ نہ ہونے کا سوال بھی ہے۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ پانامہ کیس میں سوال آیا تھا مریم نواز زیر کفالت ہیں یا نہیں؟ زیر کفالت پر اس کیس میں مفصل بحث ہوئی، کم عمر بچوں کو زیر کفالت کی کیٹیگری میں ظاہر کرنا لازم تھا، ٹیریان کی عمر کاغذات نامزدگی کے وقت 26 سال اور اب 31 سال ہے۔

عمران خان کے وکیل نے ڈی این اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ کسی سے زبردستی ڈی این اے نہیں لے سکتی ہے، ڈی این اے دینے کے حوالے سے متاثرہ فریق کی مرضی ضروری ہوتی ہے، اس کیس میں بھی ڈی این اے اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ خود چاہے، پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ آپ کسی کا زبردستی ڈی این اے لینے کا کہیں،

عمران خان اس وقت پبلک آفس ہولڈر نہیں اس لیے پٹیشن قابل سماعت نہیں۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے فیصل واوڈا کے کیس کا حوالہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قانون کسی کو باہر سے بلا کر نہیں کہہ سکتا ڈی این اے سیمپل دو، اس ایک نکتے پر یہ کیس ’ڈیڈ اینڈ‘ پر پہنچ جاتا ہے، ڈی این اے سیمپل ریپ کیس کے متاثرہ سے بھی زبردستی نہیں لیا جا سکتا، سیمپل دینا ایک رضاکارانہ کام ہوتا ہے۔وکیل صفائی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ڈی این اے کو شواہد کا حصہ بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے میری استدعا پر دیا تھا، اس قانون کے مطابق بھی کسی سے جبراً سیمپل لینے پر پابندی ہے۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…