اسحاق ڈار نے وطن واپسی سے قبل بڑا اعلان کر دیا

  ہفتہ‬‮ 24 ستمبر‬‮ 2022  |  22:31

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیرِ خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیاسی شدت پسندی دور کرنے کے لیے اس وقت ملک کو نواز شریف کی ضرورت ہے،نواز شریف کے معاملات کو ابھی تک حل ہوجانا چاہیے تھا، تمام ثبوت آچکے ہیں، پانامہ اور ڈان کا ڈرامہ نہ ہوتا تو آج پاکستان کہیں اور کھڑا ہوتا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

اسحاق ڈار نے کہا کہ نواز شریف کے معاملات کو ابھی تک حل ہوجانا چاہیے تھا، تمام ثبوت آچکے ہیں، پانامہ کا ڈرامہ نہ ہوتا تو آج پاکستان کہیں اور کھڑا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ چند ہفتے پہلے نواز شریف صاحب نے مجھے پاکستان جانے کی اجازت دی، ان کے ساتھ قانونی ناانصافیاں ہوئی ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلے زیر التوا پٹیشن کی وجہ سے میں پاکستان نہیں جارہا تھا، میرے پاس پاسپورٹ بھی نہیں تھا جو پاکستان جانے میں رکاوٹ تھا، پاسپورٹ ملنے کے بعد انہوں نے مجھے اجازت دی کہ میں اس پٹیشن کو دوبارہ دوں۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹیشن تقریبا ساڑھے 4 سال سے سپریم کورٹ میں التوا میں رہی، میں نے اپنی پرانی پٹیشن کو واپس لے لیا ہے، میرا پاسپورٹ عمران خان کی حکومت نے منسوخ کیا تھا، مجھے حال ہی میں پاسپورٹ جاری ہوا ہے۔مسلم لیگ (ن )کے رہنما نے کہا کہ سات اکتوبر سے پہلے پہلے پاکستان جانا ہے، نواز شریف اور شہباز شریف صاحب جیسا کہیں گے اس حساب سے فیصلہ کروں گا، میرا خیال ہے شاید میں اگلے ہفتے کے اختتام تک پاکستان چلا جاوں۔انہوںنے کہاکہ میرا سینیٹ کی رکنیت کا حلف بھی التوا میں ہے وہ بھی لینا ضروری ہے، سینیٹ کی رکنیت کے حلف کے بعد پارٹی جو ڈیوٹی لگائے گی ادا کروں گا، میں دعووں پر نہیں کارکردگی پر یقین رکھتا ہوں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈالر کو کنٹرول کرنے کی کوششیں پہلی بھی کیں اور ڈالر کو روکے رکھا، معیشت کے حوالے سے بہت سے خدشات ہیں، نواز و شہباز شریف بھی پریشان ہیں۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎