اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اسحاق ڈار نے وطن واپسی سے قبل بڑا اعلان کر دیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیرِ خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیاسی شدت پسندی دور کرنے کے لیے اس وقت ملک کو نواز شریف کی ضرورت ہے،نواز شریف کے معاملات کو ابھی تک حل ہوجانا چاہیے تھا، تمام ثبوت آچکے ہیں، پانامہ اور ڈان کا ڈرامہ نہ ہوتا تو آج پاکستان کہیں اور کھڑا ہوتا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

اسحاق ڈار نے کہا کہ نواز شریف کے معاملات کو ابھی تک حل ہوجانا چاہیے تھا، تمام ثبوت آچکے ہیں، پانامہ کا ڈرامہ نہ ہوتا تو آج پاکستان کہیں اور کھڑا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ چند ہفتے پہلے نواز شریف صاحب نے مجھے پاکستان جانے کی اجازت دی، ان کے ساتھ قانونی ناانصافیاں ہوئی ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلے زیر التوا پٹیشن کی وجہ سے میں پاکستان نہیں جارہا تھا، میرے پاس پاسپورٹ بھی نہیں تھا جو پاکستان جانے میں رکاوٹ تھا، پاسپورٹ ملنے کے بعد انہوں نے مجھے اجازت دی کہ میں اس پٹیشن کو دوبارہ دوں۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹیشن تقریبا ساڑھے 4 سال سے سپریم کورٹ میں التوا میں رہی، میں نے اپنی پرانی پٹیشن کو واپس لے لیا ہے، میرا پاسپورٹ عمران خان کی حکومت نے منسوخ کیا تھا، مجھے حال ہی میں پاسپورٹ جاری ہوا ہے۔مسلم لیگ (ن )کے رہنما نے کہا کہ سات اکتوبر سے پہلے پہلے پاکستان جانا ہے، نواز شریف اور شہباز شریف صاحب جیسا کہیں گے اس حساب سے فیصلہ کروں گا، میرا خیال ہے شاید میں اگلے ہفتے کے اختتام تک پاکستان چلا جاوں۔انہوںنے کہاکہ میرا سینیٹ کی رکنیت کا حلف بھی التوا میں ہے وہ بھی لینا ضروری ہے، سینیٹ کی رکنیت کے حلف کے بعد پارٹی جو ڈیوٹی لگائے گی ادا کروں گا، میں دعووں پر نہیں کارکردگی پر یقین رکھتا ہوں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈالر کو کنٹرول کرنے کی کوششیں پہلی بھی کیں اور ڈالر کو روکے رکھا، معیشت کے حوالے سے بہت سے خدشات ہیں، نواز و شہباز شریف بھی پریشان ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…