پرویز الٰہی میرا امیدوار تھا، ہے، رہے گا لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار نہیں ہوسکتا،چوہدری شجاعت حسین

23  جولائی  2022

اسلام آبا د(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ق )کے رہنما چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پرویز الٰہی میرا وزیراعلیٰ کا امیدوار تھا اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا ، پی ٹی آئی کا امیدوار نہیں ہوسکتا۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان انہوںنے کہاکہ اداروں کے

ساتھ تیس سال سے ایک تعلق رہا ہے، کیسے اداروں پر تنقید کرنے والوں کی حمایت کر سکتا ہوں،ادارے ہیں تو پاکستان میں استحکام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس میں تمام لیڈران اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی سوچ کو بالائے طاق رکھیں تاکہ ملک مزید بحرانوں کا شکار نہ ہو جائے ورنہ عوام اور ادارے اور ملک مزید نظریوں میں تقسیم ہوگا اور ملک مفاد پرستوں کے ہتھے چڑھ جائے گا۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے پرویز الہی سے ذاتی اختلاف کی باتوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت بنا کر غلط معنی نکالنے کی کوشش نہ کریں اور سب کچھ بھول کر صرف اور صرف ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے محاذ آرائی والی سیاست کو ترک کردیں۔انھوں نے سیاستدانوں سے ذاتی مفادات سے ہٹ کر ملک کی سلامتی کے لیے مفاہمت کی سیات کرنے کو کہا۔چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ جس کو بھی اقتدار میں آنے کا موقع ملے وہ سیاسی مخالفین کے پاس جائے۔ اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے لیے مل بیٹھ کر مشاورت سے آگے بڑھا جائے۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…