ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

وزیراعظم کا انتخاب کل ہوگا، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات منظور

datetime 2  مارچ‬‮  2024 |

اسلا م آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے، نئے وزیر اعظم کا انتخاب اتوار کو ہوگا ۔ ہفتہ کو وزارت عظمیٰ کیلئے اتحادی جماعتوں کے امیدوار شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائے گئے جو سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی طاہر حسین نے وصول کیے۔شہباز شریف کے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کے بھی کاغذات جمع کرائے گئے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق شہباز شریف کے لیے 8 اور عمر ایوب کے لیے 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا۔سنی اتحاد کونسل کا شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض مسترد کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ 336 رکنی ایوان میں وزارت عظمیٰ کیلئے 169 ووٹ درکار ہیں اور اتحادی جماعتوں کو 209 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت حاصل ہے جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عمر ایوب وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ایوان میں ان کے اراکین کی تعداد 91 ہے۔قومی اسمبلی میں قائد ایوان کا انتخاب اتوار 3 مارچ کو ہو گا جس کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ آئین پاکستان کے تحت پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے کیلئے امیدوار کا قومی اسمبلی کا رکن اور مسلمان ہونا ضروری ہے۔قومی اسمبلی میں اسپیکر کے حکم پر وزیراعظم کا انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں، گھنٹیاں بجانے کا مقصد تمام اراکین کو اسمبلی کے اندر جمع کرنا ہوتا ہے۔گھنٹیاں بجائے جانے کے بعد ایوان کے دروازے مقفل کر دیے جاتے ہیں جس کے بعد قائد ایوان کے انتخاب تک قومی اسمبلی ہال سے نا کوئی باہر جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو اندر آنے کی اجازت ہوتی ہے اس کے بعد اسپیکرقومی اسمبلی وزارت عظمیٰ کے نامزد امیدواروں کے نام پڑھ کر سناتا ہے اور یوں قائد ایوان کے انتخاب کی کارروائی کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

اسپیکر ایک نامزد امیدوار کیلئے دائیں اور دوسرے کیلئے بائیں طرف کی لابی مختص کرتا ہے۔قومی اسمبلی کا ہر رکن جس امیدوار کو ووٹ دینا چاہتا ہے، اس کی لابی میں چلا جاتا ہے۔ ہر لابی کے دروازے پر ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا اندراج کراتا ہے اور لابی میں چلا جاتا ہے۔لابی میں جانے والے ارکان قومی اسمبلی واپس ایوان میں نہیں آ سکتے۔اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ووٹنگ مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور ایک بار پھر دو منٹ تک گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں تاکہ ارکان لابی سے واپس ایوان میں آ جائیں، اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی قائد ایوان کے انتخابی نتائج کا اعلان کرتا ہے۔اس طرح آئینی طریقہ کار کے تحت وزیر اعظم کے عہدے کیلئے انتخاب میں کامیاب امیدوار قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور ملک کا نیا وزیراعظم بن جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…