پاکستانیوں کی آنکھو ں میںدھول جھونک کر من مانا منافع کمانے کا ایک اور سیکنڈل منظر عام پر،آئل کمپنیوں کا ایکا سامنے آگیا، ہوشربا انکشافات

  ہفتہ‬‮ 6 جون‬‮ 2020  |  14:29

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں عوام کی آنکھو ں میں دھول جھونک کر من مانا منافع کمانے کا ایک اورسیکنڈل سامنے آگیا، نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام کامران خان میں میزبان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 45فیصد تک گر گئی ہیں جبکہ پاکستان میں یہ قیمتیں36 فیصد تک کم ہوئی ہیں۔لیکن پاکستانی آئل مارکیٹنگ کمپنیو ں نے ہائی اوکٹین کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی ، پٹرول 114روپے سے 40روپے سستا ہو کر 74روپے لٹر ہو گیا ہے ، ڈیزل 122روپے سے 42روپے سستا ہو کر80روپے لٹر ہو گیا ہے،لیکن ہائی اوکٹین کی قیمت اس


وقت154سے 160روپے لٹر ہے جو 3مہینے پہلے بھی یہی تھی۔پی ایس او ، شیل ، کالٹیکس، ٹوٹل وغیرہ کی چاندی ہوگئی ہے ، ان تمام کمپنیوں نے کروڑوں ، اربوں روپے کے منافع کمائے ہیں،جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تیل کی اس قسم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ رکھا گیا ہے،جس کی اجازت حکومت نے دے رکھی ہےکہ قیمتوں سے متعلق خود فیصلہ کریں ،لیکن تمام کمپنیوں نے ایکا کر کے تیل کی اس قسم کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی ، عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے ، اس معاملے میں اوگرا کہیں نظر نہیں آرہا ،کیونکہ یہ بنیادی طور پر اس کی ذمہ داری ہے ، پروگرام میں شریک معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کا کہنا تھا کہ ہمارے ایچ او بی سی اور فیول آئل ریگیولیٹڈ نہیں ہیں۔ قانونی طور پر اوگرا یا وزارت خزانہ ایچ او بی سی کی قیمت متعین نہیں کر سکتیں۔ندیم بابر کا کہنا تھا کہ ہائی اوکٹین پیٹرول کی ضرورت سے زیادہ قیمت کی تحقیقات کے لیے اوگرا کو لکھا ہے۔قانونی طور پر قیمت کو دیکھنا ریگولیٹر کا کام ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے طے کرنے کے طریقہ کار میں اصلاحات کی جائیں گی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے آئل کمپنیوں اور ریفائنریز کو نقصان ہوا، اپنے نقصان کو پورا کرنے کے لیے اب آئل کمپنیز ضرورت سے زیادہ منافع کمانا چاہ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئل کمپنیز کو قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اگر انونٹری پر نقصان ہوا ہے تو قیمتیں بڑھنے پر فائدہ بھی ہوگا۔بظاہر یہ صاف لگ رہا ہے کہ ہائی اوکٹین پیٹرول کی قیمت میں کمی آنا چاہیے تھی جو کہ نہیں آئی۔ہمارا قیمتیں طے کرنے کا نظام قیمتوں کے غیر مستحکم ماحول میں ناکام ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے 15 سال پرانے قیمت طے کرنے کے نظام کو ہی تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔ندیم بابر نے کا کہنا تھاکہ آئل کی درآمد پر تین ہفتے بعد پابندی اٹھا لی گئی تھی۔ آئل کمپنیز نے قیمتوں میں مسلسل کمی کو دیکھتے ہوئے تیل درآمد نہیں کیا۔ آئل کمپنیز سے اگلے دو اور ریفائنریز سے تین مہینوں کا درآمد سے متعلق پلان مانگا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں حد درجہ کمی 20 اپریل کے قریب آئی تھیں، پابندی 15 اپریل کو اٹھا لی گئی تھی۔ آئل کمپنیز کو تیل ذخیرہ کرنے سے متعلق لائسنس کی شرائط پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ اوگرا کو شرائط پوری نہ کرنے والی آئل کمپنیز کے لائسنس منسوخ کرنے کا کہہ دیا۔


موضوعات: