مہنگائی کے طوفان سے اساتذہ بھی تنگ، دھرنے کا اعلان کر دیا گیا

  منگل‬‮ 18 فروری‬‮ 2020  |  0:18

دریاخان(آن لائن) مہنگائی کے طوفان سے اساتذہ بھی بلبلا اٹھے۔ 19 فروری کو دھرنے کا اعلان۔ متحدہ محاذِ اساتذہ پنجاب کے مرکزی رہنماوؤں حافظ عبدالناصر، حافظ غلام محی الدین،رشید احمد بھٹی، کاشف شہزاد چودھری، محمد اشفاق نسیم،محمد اجمل شاد،محمد آصف جاوید،ملک محمد امجد،محمد صدیق گل، شہزاد ندیم قیصر، بلال کموکا، ظفر اقبال وٹو، محمد اسلم گجر اور عبدالستار خاں نے مشاورتی اجلاس میں اس امر کا جائزہ لیا کہ تنخواں میں اضافہ 5 فی صد کیا گیا تھا لیکن اب تک مہنگائی 30 فی صد سے بھی زیادہ ہو چکی ہےان حالات میں سفید پوش اساتذہ کے لئے زندگی گزارنا


د وبھر ہو گیا ہے۔ مہنگائی نے خاندان کیلئے دوائی کا حصول تک ناممکن بنا دیا ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن سخت بدانتظامی کا شکار ہے اساتذہ کی ان سروس پروموشن،ریگولرائزیشن، کمپیوٹر الاؤنس،پے پروٹیکشن، ٹائم سکیل، لیو ان کیشمنٹ، اور پینشن وغیرہ جیسے اہم ترین مسائل حل نہیں ہو رہے۔ چار چاردفاتر رکھنے والے ٹیوٹر منسٹر کو سوشل میڈیا پر اپنی مصنوعی کارکردگی دیکھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن کبھی کبھار اس طرح دفتر آتے ہیں جیسے مرشد اپنے مریدوں کو دیدار کراتے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن میں رشوت ستانی عام ہے۔ 30 ہزار اساتذہ کی پروموشن کا گزشتہ 18 ماہ سے کوئی والی وارث نہیں۔ 5ہزار ہائی سکول بغیر ہیڈٹیچرز کے چلائے جارہے ہیں۔ اساتذہ کے 30ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ہزاروں سکولوں میں درجہ چہارم اور خاکروب کی آسامیاں خالی ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ سکولوں میں خود جھاڑو دینے پر مجبور ہیں جو کہ محکمہ سکول ایجوکیشن پر بدنما داغ ہے۔ اسمبلی سے ایکٹ پاس ہونے کے باوجود 20ہزار سے زائد اساتذہ کی ریگولرائزیشن زیر لتوا ہے۔ نئی بھرتی کی بجائے ریلشنلائیزیشن کے نام پر اساتذہ کی اکھاڑ پچھاڑ نے اساتذہ میں اضطراب پیداکر دیا ہے۔ نئے قائم شدہ دوپہر انصاف سکولوں میں اساتذہ کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہیں۔ ان حالات میں مہنگائی کی چکی میں پسے اساتذہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اساتذہ اپنا جمہوری اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے مہنگائی کی دوھائی دینے اور مسائل و مطالبات حل کے لئے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ 19 فروری بروز بدھ 2 بجے دن سول سیکرٹریٹ لاہورکے سامنے اساتذہ احتجاج کریں گے اور دھرنا دیں گے۔


موضوعات: