جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا کو آٹے کی سپلائی کی بندش، ایک نہیں دو پاکستان کی بات سچ ثابت ہو گئی، ایمل ولی خان نے حیران کن بات کر ڈالی

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کو آٹے کی سپلائی کے بندش نے ثابت کردیا ہے کہ یہاں ایک نہیں دو پاکستان کا تصور موجود ہے۔ ہم جب کہتے ہیں کہ یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہیں تو اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو بھی یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پنجاب پاکستان اور پاکستان پنجاب ہے۔ خیبرپختونخوا کو آٹا سپلائی بند

کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ یہ ملک مختلف اقوام اور صوبوں پر مشتمل ایک فیڈریشن ہے جہاں ہر صوبے کو اپنے وسائل پر اختیار اٹھارویں ترمیم دے چکی ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں بڑے بھائی کا دعویدار صوبہ اپنے وسائل پر تو اختیارات رکھتا ہے لیکن چھوٹے صوبوں کو انکے وسائل پر اختیار نہیں دیا جارہا بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ چھوٹے صوبے کے حقوق بھی بڑا بھائی لینے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ اگر گندم اور آٹے پر پنجاب کا حق تسلیم کیا جارہا ہے تو پانی، بجلی،گیس اور دیگر معدنیات پر ہمارا حق کیوں تسلیم نہیں کیا جارہا؟ ایمل ولی خان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اجراء میں تاخیر اور نااہل حکومت کی ناکامی کی وجہ سے صوبہ معاشی بدحالی کا شکار ہوچکا ہے۔ غریب دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں، صوبائی سطح پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہورہے، منصوبوں پر تختیاں لگانے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ہی عوام کو خوشحالی ملے گی جو کم ازکم موجودہ حکومت کے بس میں نہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اے این پی کا کارنامہ ہے لیکن نااہل پی ٹی آئی حکومت اسکے ثمرات عوام تک پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں مرکز اب بھی خیبرپختونخوا کا مقروض ہے، صوبائی حکومت اگر خود کچھ نہیں کرسکتی کم ازکم مرکز سے اپنے حقوق کیلئے بات تو کرے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ 20کلو آٹے کا تھیلا 1200 روپے میں فروخت ہورہا ہے، ایسے حالات میں مزدور اور غریب عوام کیا کریں گے، عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…