زمین اسی کی ہوتی ہے جس کی ملکیت ہو،بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کے فیصلے پر اعتزاز احسن کا ردعمل بھی سامنے آگیا،مسلمانوں کو مشورہ دیدیا

  ہفتہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  20:09

لاہور(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر مرکزی رہنماء اورقانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بابری مسجدکی زمین پانچ سوسال سے مسلمانوں کی تسلیم شدہ پراپرٹی ہے،پچھلے 100سال میں بھی بھارتی سپریم کورٹ نے ہفتے کوکوئی فیصلہ نہیں سنایا ہوگا، لیکن بھارتی سپریم کورٹ پر دھبہ ہے، کہ چھٹی کے روز ہفتے کو بابری مسجد پراپرٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی پراپرٹی کافیصلہ تو بالکل غلط لگتا ہے، جب عدالت میں جائیداد سے متعلق کیس جاتا ہے، تو عدالت میں پہلا سوال


یہ ہوتا ہے کہ پراپرٹی کا اس وقت مالک کون ہے؟ دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ پراپرٹی کو کتنا عرصہ ہوگیا کہ آپ پراپرٹی خالصتاً آپ کے پاس ہے اور آپ کی ہے۔اب بابرنے 1526 سے 1530ء تک حکومت کی، تب سے ایک تسلسل کے ساتھ یہ پراپرٹی مسلمانوں کی ملکیت میں رہی ہے، یہ بھی تسلیم شدہ ہے کہ یہ پراپرٹی مسلمانوں کے پاس تھی۔بابری مسجد کی پراپرٹی کیس کے بحث کے آغاز میں بات کی جاتی ہے کہ یہ مسجد بابر نے بنائی تھی۔ اگر پونے پانچ سوسال سے یہ ایک تسلیم شدہ پراپرٹی ہے توپھر کسی بھی صورت اس کا قبضہ ہندوؤں کو نہیں دیا جاسکتا۔ اگر مندر کی کوئی بنیاد نکل بھی آئے پھر بھی یہ زمین نہیں دی جاسکتی تھی، یہ تومسلمانوں نے کوئی چھپ چھپا کر قبضہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سپریم کورٹ پردھبہ ہے کہ انہوں نے کیس کا فیصلہ ہفتے کو سنایا ہے، کیونکہ وہاں عدالتیں ہفتے کو کام نہیں کرتیں۔اس طرح پچھلے 100سال میں بھارتی سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہوگا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان کرتارپورکا افتتاح کررہا ہے۔اگر یہ بابری مسجد کا فیصلہ نہ آیا ہوتا تو ساری دنیا میں کرتارپور کی تقریب بڑی ہونی تھی، لیکن آج انہوں نے فیصلہ سنا دیا کہ تاکہ دنیا کا دھیان اس طرف نہ جائے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے پاس نظرثانی اپیل دائرکرنے کی آپشن ہے، اپیل میں کرتارپورکو بھی جوڑا جانا چاہیے۔

loading...