ملک گیر ہڑتال،مر کزی تنظیم تاجران پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کو تا جر برادری کو درپیش مسائل کے حوالے سے خط ارسال کردیا

  پیر‬‮ 21 اکتوبر‬‮ 2019  |  20:42

اسلام آباد (آن لائن) مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے مر کزی صدر محمد کاشف چوہدری نے وزیر اعظم پاکستان کو ملک بھر کی تا جر برادری کوایف بی آر اور حکو مت کی معاشی پالیسیوں سے درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے جس میں وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملکی معیشت کا پہیہ رواں رکھنے کے لیے بجٹ2019میں معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس آمدن کا ہدف5500ارب روپے رکھنے کی وجہ سےFBRنے نافذ العمل ٹیکس نظام میں تبدیلیاں کیں ہیں،جس میں مال کی خرید و فروخت پر شناختی کارڈ


کی شرط، چھوٹے تاجروں کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن، ود ہولڈنگ ایجنٹ بنانے، ٹرن اوور ٹیکس کی شرح، حساب کتاب اورو کھاتے رکھنے کا مشکل و پیچیدہ نظام و دیگر متعدد امور شامل تھے۔جس نے سْست روی کے شکار معیشت کے پہیہ کو جام کر دیا،اس کے خلاف13جولائی کو مْلک گیر ہڑتال، احتجاج، دھرنے، مذاکرات کے بعد اب29, 30اکتوبر کی مْلک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاری جاری ہے۔کاشف چوہدری نے خط میں کہا درمیانے اور چھوٹے درجے کے تاجروں کو درپیش مسائل اور اْن کا حل کے لیے  ہر سطح کے تاجروں کی سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے کسی تاجر کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے عام تاجر نے بالعموم کوئی ٹیکس جمع نہیں کرنا یعنی حکومتی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا چونکہ بالعموم سیلز ٹیکس مینو فیکچرنگ اور امپورٹ کے وقت وصول کر لیا جاتا ہے۔ البتہ تاجر کو پیچیدہ ترین ڈاکو مینٹیشن،ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروانا، منشی و اکاؤنٹنٹ کی تنخواہ اور پھر بلیک میلنگ، رشوت کا سامنا کرنا ہو گا۔انھوں نے کہا حکو مت درمیانے درجے کے تاجر کو اس بے مقصد سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے چھٹکارا دے،اس عمل کو ود ہولڈنگ ایجنٹ بننا کہتے ہیں،چنانچہ حکومت تاجروں کیلئے ود ہولڈنگ ایجنٹ بننے کے قانون کا خاتمہ کرے۔اور تاجروں کے ٹرن اوور پر 1.5%ٹرن اوور ٹیکس کا نفاذ ہے۔جبکہ متعدد کاروباروں میں یہ شرح اْن کے منافع سے بھی زیادہ ہے۔لہذا حکومت1.5%ٹرن اوور ٹیکس کو0.25%کرتے ہوئے  انکم ٹیکس رجسٹریشن کا مشکل نظام، پیچیدہ ٹیکس ریٹرن فارم، ریٹرن جمع کروانے کا طریق کار، اور انکم ٹیکس کے بھاری سلیب ریٹس ہیں۔ انھوں نے کہا تاجروں کی سالانہ سیل پر مناسب شرح کا فکس ٹیکس لگائے جسکا آسان اور سادہ اردو کا فارم بنائے۔جسے تاجر خود بھر کر بینک میں اپنا ٹیکس جمع کروا دے اورٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں سے گزشتہ سالوں کی پوچھ گچھ، نوٹسز اور محکمانہ بلیک میلنگ سے چھٹکارہ دلایا جا ئے اوردرمیانے وچھوٹے تاجروں کیلئے کمشنر سطح پر لوکل تاجر نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے کر ٹرن اوور، تنازعات کو کمیٹیوں کے ذریعے حل کروانے کا اہتمام کیا جا ئے،کاشف چوہدری نے کہا حکومت اسکیم میں آنے والے تاجروں کے ظاہر کردہ اثاثہ جات اور کاروباری سرمایہ کو بغیر جرمانہ تسلیم کرے اور جیولرز کیلئے حکومت خصوصی اسکیم کا علان کرے اور اْنکے پْرانے نظام کو بحال کرے، موبائل فونز، گاڑیوں، ٹیکسٹائل سیکٹر کے ٹیکسز کو درست کرے۔کاشف چوہدری نے کہا آڑھتیوں کی سالانہ فیسوں میں اضافہ کو بھی منصفانہ بنا یاجائے۔محمد کاشف چوہدری نے کہا یہ تمام کام پارلیمنٹ سے قانون سازی کے ذریعے کیئے جائیں،ان تمام منصفانہ قوانین کے بننے کے بعد شناختی کارڈ کے ذریعے مال کی خرید و فروخت کوئی مسئلہ نہ رہے گی۔ان قوانین کو بنانے اور عملدرآمد تک شناختی کارڈ کے ذریعے خرید و فروخت پر کارروائی کو موخر کیا جائے۔تاجر ٹیکس دے رہا اور مزید دینا چاہتا ہے مگر ایف۔بی۔آر کے بوسیدہ و کرپٹ نظام سے خوفزدہ ہے۔حکومت اعتماد کی بحالی، ٹیکس دینے کے نظام میں آسانی کیلئے ہماری تجاویز کو تسلیم کرے۔حکومت و میڈیا تاجروں کو چور کہنے کی بجائے حقیقت کو سمجھے کہ تاجر ٹیکس کی منصفانہ شرح اور دینے کے آسان نظام کا مطالبہ کر رہا ہے۔

موضوعات:

loading...