وزیر اعظم سے معاشی ٹیم کی تین گھنٹے ملاقات،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کب کی جائے گی؟ مشیر خزانہ نے حیرت انگیز اعلان کردیا

  ہفتہ‬‮ 24 اگست‬‮ 2019  |  20:59

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان سے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد و معاشی ٹیم کے دیگر ارکین نے ملاقات کی۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے مفصل روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا کہ آج کا جو اجلاس تھا اس کے تین چار بنیادی مقاصد تھے سب سے پہلے یہ کہ معیشت کی جو پرفارمنس ہے اس کا جائزہ


لیا جائے اور خصوصی طور پر تمام منسٹریز جیسے پلاننگ، ایگری کلچرل، کامرس اور ریونیو ان سب کی پروفارمنس کو دیکھا جائے۔ گورنمنٹ نے جو بجٹ دیا ہے اس کے فوائد عام لوگوں تک کیسے پہنچیں؟ مثال کے طور پر ہم نے تقریباً ساڑھے نو سو ارب رکھے ہیں ترقیاتی پروگرامز کیلئے تو خیال یہ تھا کہ یہ پراجیکٹ اگر مکمل ہونے جائیں تو اس سے لوگوں کی زندگی پر اثر پڑے گا اور ساتھ ہی ساتھ جاب کریشن ہو نگی۔ وزیراعظم کی ہدایات ہیں کہ جو بھی بڑے پراجیکٹس ہیں ان کو مسلسل مانیٹر کیا جائے تاکہ ان کے فوائد لوگوں تک پہنچائے جا سکیں۔ ہم نے پاکستان کے جو کمزور طبقے ہیں ان کیلئے 192 ارب روپے رکھے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ کیش ٹرانسفراز یا صحت کیلئے جو کارڈز ہیں یا دوسرے تمام جو پروگرامز ہیں ان میں تیز رفتاری لائی جائے تاکہ لوگوں کو محسوس ہو کہ انکی حکومت ان کیلئے کچھ کر رہی ہے۔ تیسرا یہ کہ ہم نے 262 ارب روپے رکھے ہیں سبسڈیز کیلئے جس کا بنیادی مقصد کمزور طبقوں کو بجلی یا اور چیزوں کی قیمتوں سے پروٹیکش دینی ہے اور جو بزنس کمیونٹی ہے اس کی کاسٹ کم کرنے میں ان کی مدد کرنا ہے یہ تمام چیزیں پبلک اپروچز ہیں انکے فوائد عوام کو پہنچیں اور بزنس کمیونٹی کو اعتماد ملے۔اس کے کچھ چند اچھے اثرات سامنے آ رہے ہیں جیسے سٹاک مارکیٹ پچھلے ہفتے 9 فیصد زیادہ رہی اور ایکسپورٹ کافی عرصے بعد اب بڑھی ہے اور جو جولائی کے نمبرز آئے ہیں وہ پہلے مہینوں کے نمبروں سے کافی بہتر ہیں۔ یہ تمام حیزیں حوصلہ افزا ہیں۔آئیڈیا یہ ہے کہ ہم آگے جا رہے ہیں پوری اکنامی کیلئے ایک روڈ میپ تیار کر رہے ہیں جس میں تمام جو اہم فیصلے کرنے ہیں تمام منسٹریز کے بارے میں تمام فیصلے روڈ میپ کے مطابق ہوں۔ اکنامک ٹیم وزیراعظم کی سربراہی میں اس روڈ میپ کے تحت ملے اور جو بھی فیصلے ہوں وہ فیصلے ان کے سامنے پیش کئے جائیں۔کئی طرح کے فیصلے ہیں جو لئے جا رہے ہیں یا مسلسل طور پر لئے جائیں گے جس طرح بزنس کمیونٹی ہے ہم چاہ رہے ہیں کہ جو ا لیکٹرک اور گیس کی سبسڈی ہے وہ انہیں ملے دوسری جانب ہم چاہ رہے ہیں کہ انہیں قرضے آسانی سے ملیں۔تیسری جانب ہم چاہ رہے ہیں کہ ان میں ریونیو جمع کرنے میں بوجھ ان کو نہ ملیں۔ ہم چاہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح پبلک کے فائدے میں جو فیصلے ہیں تو ہم چاہ رہے ہیں کہ اگر تیل کی قیمتوں عالمی سطح پر کم ہوں تو اس کا فائدہ پاکستان میں عوام کو تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ملیں۔ ہم پر امید ہیں کہ انشاء اللہ آنیوالے مہینوں میں ایسی چیزیں ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

موضوعات:

loading...